BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 November, 2008, 12:55 GMT 17:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کی تین صفر پر نظر

شعیب ملک اور کرِس گیل
پاکستان کے لیے بھارت کے خلاف سیریز سے قبل یہ جیت اہم ہے
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ابوظہبی میں تیسرا اور آخری ون ڈے انٹرنیشنل اتوار کو کھیلا جائے گا۔ پاکستانی ٹیم یہ سیریز پہلے ہی جیت چکی ہے اورکپتان شعیب ملک تیسرا میچ بھی جیت کر کلین سوئپ کے منتظر ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم اس وقت آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں چھٹے نمبر پر ہے اور اگر وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز تین صفر سے جیتنے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس کی رینکنگ چوتھی ہوجائے گی۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم اس وقت عالمی ون ڈے رینکنگ میں آٹھویں نمبر پر ہے۔
کپتان شعیب ملک کے لئے یہ بات یقیناً اطمینان کا باعث ہے کہ جس سیریز کو ان کی کپتانی کے ممکنہ آخری امتحان سے تعبیر کیا جارہا تھا اس امتحان میں وہ پورے اترے اور انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے لئے کوئی موقع نہیں چھوڑا کہ وہ قیادت کے لئے کسی دوسرے کرکٹر کے بارے میں سوچے۔

چوکے چھکے یا سنگل ڈبل
 ویسٹ انڈین بیٹسمین باؤنڈریز کے عادی ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ چوکے چھکے کے ساتھ ساتھ آپ ایک ایک رن لے کر اسکور کو متحرک رکھیں
ویسٹ انڈیز کوچ
شعیب ملک کا کہنا ہے کہ انہوں نے کپتانی ہمیشہ اعزاز سمجھ کر کی ہے اور ان کی خواہش ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ پاکستانی ٹیم کامیابی سے ہمکنار ہو۔ وہ پاکستانی ٹیم کو صف اول کی ٹیموں میں شامل دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف اہم سیریز سے قبل یہ جیت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔

ویسٹ انڈین کوچ جان ڈائسن نے اپنی بولنگ پر عدم اطمینان ظاہر کیا ہے۔
آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ڈائسن کا کہنا ہے کہ ان کے بالر ابھی بھی درست لائن لینتھ پرگیندیں نہیں کررہے ہیں اور حریف ٹیم کو بہت زیادہ فری ہٹ فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ویسٹ انڈین بیٹسمین باؤنڈریز کے عادی ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ چوکے چھکے کے ساتھ ساتھ آپ ایک ایک رن لے کر اسکور کو متحرک رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ صفر پر دونوں اوپنروں کا آؤٹ ہونا مہنگا پڑا جبکہ زیویئر مارشل کی وکٹ گرنے سے ان کی ٹیم پر بے پناہ دباؤ بڑھ گیا تھا۔

تیسرے ون ڈے میں بھی فاسٹ بولر شعیب اختر کی شرکت یقینی نہیں ہے۔
وہ پنڈلی کا پٹھہ کھنچ جانے کے سبب دونوں میچ نہیں کھیل سکے تھے۔

مقامی شائقین شعیب اختر کے نہ کھیلنے پر خاصے مایوس دکھائی دیئے اور کچھ نے خاصے تلخ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر شعیب اختر نے فٹ ہی نہیں ہونا تو انہیں ٹیم کے ساتھ ساتھ کیوں رکھا جاتا ہے۔ بہتر تھا کہ انہیں وطن بھیج کر کسی حقدار فاسٹ بولر کو یہاں بلالیا جاتا۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد