BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 October, 2008, 12:53 GMT 17:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تلخ ترین اننگز کھیل چکا‘

سلیم ملک
عدالتی فیصلہ میرے لئے ایک نئی سانس ہے اور میں خود کو آزاد محسوس کررہا ہوں
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک نے تاحیات پابندی کو اپنی زندگی کی اس تلخ ترین اننگز سے تعبیر کیا ہے جو وہ کھیل چکے ہیں۔

واضح رہے کہ جمعرات کے روز لاہور کی سول کورٹ نے سلیم ملک پر میچ فکسنگ کے الزام میں عائد تاحیات پابندی کو ختم کرنے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔جب وہ کمرۂ عدالت سے باہر آئے تو ان کی آنکھیں نم تھیں اور ان کے دوستوں نے گلے لگ کر انہیں مبارک باد دی اور مٹھائی کھلائی۔

سلیم ملک نے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ یہ عذاب جھیلتے ہوئے انہیں نو سال گزرگئے۔ یہ ان کی زندگی کے بہت ہی برے دن تھے۔ صرف میچ فکسنگ ہی نہیں نہ جانے اور کتنے مقدمات میں انہیں پھنسایا گیا جن کا تصور کرنے پر ہی رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ اپنے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر یہ سوچتے تھے کہ انہوں نے پاکستان کے لیے کبھی کرکٹ ہی نہیں کھیلی۔

سلیم ملک نے کہا کہ عدالتی فیصلہ جیسے ان کے لیے ایک نئی سانس ہے اور وہ خود کو آزاد محسوس کر رہے ہیں۔

سلیم ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ لکھا تھا کہ ان پر تاحیات پابندی کبھی بھی نہیں تھی اور سول کورٹ کے جج نے بھی ان سے کہا کہ کیا آپ کو کسی نے نہیں بتایا کہ آپ پر تاحیات پابندی نہیں تھی۔

’میں خود قانون دان نہیں ہوں۔ میں نے سابق گورنرپنجاب شاہد حامد سمیت متعدد نامی گرامی وکیلوں کی خدمات حاصل کیں جو نو سال تک مجھے کورٹ کچہریوں کے چکر لگواتے رہے ہیں۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس عرصے میں میرے ساتھ کون کون کھیلتا رہا ہے۔‘

سلیم ملک نے کہا کہ جب وہ کرکٹ بورڈ سے تاحیات پابندی کے بارے میں پوچھتے تھے تو جواب ملتا تھا کہ عدالتی کمیشن نے یہ پابندی لگائی ہے اور بورڈ نے صرف عملدرآمد کیا ہے۔ ’جب میں جسٹس قیوم سے بات کرتا تو جواب آتا کہ انہوں نے تو سزا تجویز کی تھی پابندی بورڈ نے لگائی ہے۔‘

سلیم ملک کا کہنا ہے کہ وہ اس حد تک مایوس ہوگئے تھے کہ انہوں نے اپنی مجوزہ کرکٹ اکیڈمی کا منصوبہ بھی ادھورا چھوڑ دیا تھا لیکن اب اسے دوبارہ شروع کرینگے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ سے بھی ان کی ملاقات ہوئی ہے۔اگر پاکستان کرکٹ بورڈ ان کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو وہ تمام گلے شکوے بھلا کر اپنی خدمات پیش کرینگے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد