BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 September, 2008, 11:01 GMT 16:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی ہاکی ٹیم ہیمبرگ روانہ

بیجنگ اولمپکس کے پاکستانی ٹیم کی منیجمنٹ مستعفی ہوگئی تھی
پاکستانی ہاکی ٹیم چار قومی ہاکی ٹورنامنٹ کھیلنے جرمنی روانہ ہوگئی ہے۔

تین سے پانچ اکتوبر تک ہیمبرگ میں ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں پاکستان جرمنی، ملائشیا اور بیلجیئم کی ٹیمیں حصہ لیں گی۔

پاکستانی جونیئر ہاکی ٹیم کے چیف کوچ اور وقتی طور پر سینئر ٹیم کے چیف کوچ بنائے جانے والے جہانگیر بٹ کا کہنا ہے کہ سینیئر کھلاڑیوں کو ٹیم میں دوبارہ شامل نہ کیاجائے اور مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے جونیئر ٹیم کے نوجوان کھلاڑیوں پر انحصار کیا جائے۔

واضح رہے کہ بیجنگ اولمپکس میں پاکستانی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد پاکستان ہاکی فیڈریشن نے متعدد سینیئر کھلاڑیوں کو آرام کے نام پر ڈراپ کر کے ہمبرگ ماسٹرز چار قومی ہاکی ٹورنامنٹ کے لیے جونیئر ٹیم کے کھلاڑیوں کی اکثریت کے ساتھ سینئر ٹیم تشکیل دی ہے۔

بیجنگ اولمپکس کے بعد چونکہ پاکستانی ٹیم کی منیجمنٹ مستعفی ہوگئی تھی لہذا جہانگیر بٹ، دانش کلیم اور کامران اشرف پر مشتمل جونیئر ٹیم کی منیجمنٹ ہی کو سینئر ٹیم کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔

جہانگیر بٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ اولمپکس میں پاکستانی کھلاڑی ٹیم کی حیثیت سے نہیں کھیلے اس کے علاوہ دفاعی کھلاڑیوں کی غلطیوں نے حریف ٹیموں کوگول کرنے کا آسان مواقع فراہم کیے۔

انہوں نے کہا کہ’پاکستانی ٹیم میچ کا آغاز چار ہاف بیکس سے کرتی تھی لیکن پھر سینٹر ہاف اور رائٹ ہاف اچانک غائب ہوجاتے تھے جس کی وجہ سے ڈیفنس کمزور پڑجاتی تھی اور پاکستانی ٹیم پر سینٹر سے اٹیک ہوتے تھے‘۔

 بیجنگ اولمپکس میں ان کھلاڑیوں کو موقع دے دیا گیا اب اگر ہم نے اگلے اولمپکس کی تیاری کرنی ہے تو پھر نوجوان کھلاڑیوں کو اعتماد دیتے ہوئے انہیں تیار کرنا ہوگا۔ پرانے کھلاڑیوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے
جہانگیر بٹ

جہانگیر بٹ نے کہا کہ کیمپ میں کھلاڑیوں نے سخت محنت کی ہے۔ بیجنگ اولمپکس کے بعد ان کا مورال گرا ہوا تھا جسے بحال کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینئر کھلاڑیوں کی ٹیم میں واپسی کا فیصلہ نئی منیجمنٹ کو کرنا ہے لیکن ذاتی طور پر وہ ان کی واپسی کے حق میں نہیں ہیں۔

’بیجنگ اولمپکس میں ان کھلاڑیوں کو موقع دے دیا گیا اب اگر ہم نے اگلے اولمپکس کی تیاری کرنی ہے تو پھر نوجوان کھلاڑیوں کو اعتماد دیتے ہوئے انہیں تیار کرنا ہوگا۔ پرانے کھلاڑیوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے‘۔ انہوں نے کہا کہ جونیئر ٹیم کے متعدد کھلاڑی سینئر ٹیم میں جگہ بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

جہانگیربٹ کا کہنا ہےکہ ایشیا کپ میں بھارت سے سیمی فائنل ہارنے کے باوجود وہ پاکستانی جونیئر ٹیم سے جونیئر ورلڈ کپ میں اچھی کارکردگی کے سلسلے میں پرامید ہیں۔

جب ان سے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری آصف باجوہ کے اس بیان پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا کہ جونیئر ٹیم کا کھلاڑی سینئر میں آنے کے بعد دوبارہ جونیئر میں نہیں کھیلے گا تو جہانگیربٹ نے کہا کہ آصف باجوہ کی تجویز اچھی ہے تاہم انہیں بتایا گیا ہے کہ اس پر عملدرآمد اگلے سال جونیئر ورلڈ کپ کے بعد ہونا چاہیے۔

جہانگیر بٹ کے مطابق’یہ اس وقت ہو جب آپ بالکل نئی جونیئر ٹیم تیار کریں اس وقت جونیئر ٹیم کے کئی کھلاڑی سینئر میں کھیلنے کے بعد بھی اگلے سال جونیئر ورلڈ کپ کے سکواڈ کا حصہ ہیں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد