BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 July, 2008, 11:44 GMT 16:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شعیب کاکول کیمپ سے باہر

 شعیب اختر
شعیب نے کہا کہ انہیں وہ ٹریننگ نہیں چاہیے کو کالول میں ہوگی
فاسٹ بالر شعیب اختر کو پاکستان کے آرمی سکول آف ٹریننگ کاکول میں ہونے والے تربیتی کیمپ کے کھلاڑیوں میں شامل نہ کرنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام متضاد رائے دے رہے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے چمپئنز ٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ کی تیاری کے لیے اکیس سے اٹھائیس جولائی تک کاکول میں پاکستان کے 24 کھلاڑیوں کی تربیت ٹریننگ کا اہتمام کیا ہے لیکن اس میں فاسٹ بالر شعیب اختر کے علاوہ اعلان کردہ ان چھ کھلاڑیوں کو شامل نہیں کیا گیا جو ملک سے باہر ہیں۔

شعیب اختر کو تربیتی کیمپ کے کھلاڑیوں میں شامل نہ کرنے کی بابت سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین صلاح الدین صلو نے مقامی ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کرکٹ بورڈ کی جانب سے شعیب اختر کی کلیرنس نہیں ملی۔ انہیں کیمپ میں تب ہی شامل کیا جائے گا جب کرکٹ بورڈ انہیں کلئیر کر دے گا۔

صلاح الدین صلو نے کہا کہ آئی سی سی کی ڈیڈ لائن کی وجہ سے شعیب اختر کوتیس کھلاڑیوں میں شامل کرنا پڑا لیکن جرمانے کا معاملہ ابھی طے نہیں ہوا۔

شعیب کی ٹریننگ
 میں نے شعیب اختر سے خود بات کی، شعیب اختر نے کہا کہ انہیں اس قسم کی تربیت نہیں چاہیے جو کاکول کے کیمپ میں ہو گی کیونکہ وہاں کرکٹ نہیں ہو گی اور شعیب کا کہنا ہے کہ انہیں کرکٹ کھیلنے کی ضرورت ہے اور وہ بالنگ کروانا چاھتے ہیں کیونکہ انہیں خود کو بالنگ کے لیے فٹ کرنا ہے
شفقت نغمی
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی کا اس سلسلے میں مؤقف صلاح الدین صلو سے برعکس ہے۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کاکول کے کیمپ میں بہت سخت تربیت کروائی جائے گی اور وہاں ان کھلاڑیوں کو بھیجا گیا ہے جن پر کرکٹ بورڈ گزشتہ چھ سے آٹھ مہینے سے کام کر رہا ہے اور یہ فٹنس کی بہتری کے لیے ایک پلان کا حصہ ہے۔

’اس میں تربیت بہت سخت ہو گی اور ہمیں نہیں معلوم کہ شعیب اختر کی فٹنس کس معیار کی ہے، کہیں زیادہ تربیت ان کے لیے نقصان دہ نہ اس لیے انہیں شامل نہیں کیا گیا۔‘

شفقت نغمی نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں انہوں نے شعیب اختر سے خود بات کی، شعیب اختر نے کہا کہ انہیں اس قسم کی تربیت نہیں چاہیے جو کاکول کے کیمپ میں ہو گی کیونکہ وہاں کرکٹ نہیں ہو گی اور شعیب کا کہنا ہے کہ انہیں کرکٹ کھیلنے کی ضرورت ہے اور وہ بالنگ کروانا چاھتے ہیں کیونکہ انہیں خود کو بالنگ کے لیے فٹ کرنا ہے۔

شفقت نغمی نے کہا کہ شعیب اختر نے اپنی فٹنس ثابت کرنے کے لیے ان سے ڈھائی ہفتے کا وقت مانگا ہے۔ انہوں نے اس بات سے قطعی انکار کیا کہ کاکول کے کیمپ میں شعیب اختر کو نہ رکھنے کے در پردہ جرمانہ نہ ادا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شعیب اختر سے جرمانہ تو ہم وصول کر ہی لیں گے۔

شفقت نغمی کے بقول جرمانے کے معاملے میں پی سی بی اور شعیب اختر کے وکیل کے مؤقف الگ الگ ہیں اور اس سلسلے میں ہم کورٹ سے بھی رابطہ کریں گے تاہم یہ شعیب اختر کی ٹیم میں شمولیت کی شرط نہیں۔

شفقت نغمی نے کہا کہ اس سلسلے میں ان کی بات کو ہی صحیح سمجھا جائے اور کسی اور کے بیان کو درست نہ ہی جانا جائے تو بہتر ہے۔

اسی بارے میں
شعیب کنٹریکٹ سے محروم
25 January, 2008 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد