ماجد خان کی پی سی بی پر تنقید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹو ماجد خان نے پاکستان کرکٹ بورڈ پر کڑی تنقید کی ہے اور اسے پاکستان میں کرکٹ کےگرتے ہوئے معیار کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ماجد خان نے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا کہ پی سی بی میں ہونے والی مالی بے ضابطگیوں کا پتہ چلانے کے لیے قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سے تحقیقات کروائی جائیں۔ ماجد خان کا کہنا تھا کہ جب 1996 سے 1999 تک وہ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو تھے تو بورڈ میں سترہ ملازمین تھے اور اب سات سو سے زائد ملازمین ہیں اور پھر بھی کرکٹ کا معیار گرتا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ 1999 کے عالمی کپ میں پاکستان کی ٹیم فائنل میں پہنچی تھی جب کہ اس کے بعد دونوں ورلڈ کپ اور بھارت میں ہونے والی چمپئنز ٹرافی میں ٹیم کی حالت سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ تب پاکستان کی عالمی رینکنگ پہلے یا دوسرے نمبر پر ہوتی تھی اور اب وہ سب سے نیچے ہے۔ ماجد خان نے مثالیں دے کر واضح کیا کہ کھلاڑیوں کے نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں سے بورڈ نمٹ نہیں سکا جس کے نتیجے میں کھلاڑی بورڈ پر حاوی ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شعیب ملک نے تسلیم کیا کہ انہوں نے ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ فکس کیا تھا اور میچ فکس کرنے پر آئی سی سی کے قوانین کے مطابق اس کھلاڑی پرتا حیات پابندی کی سزا ہے لیکن انہیں سزا دینے کی بجائے ٹیم کا کپتان بنا دیا گیا۔ ماجد خان نے کہا کہ شعیب اختر اور محمد آصف کی نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انضمام الحق نے اوول ٹیسٹ میچ فور فیٹ کیا لیکن پی سی بی نے ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔ ماجد خان نے الزام لگایا کہ بورڈ کے بے شمار ملازمین اور پاکستان کی ٹیم کے پندرہ کھلاڑیوں پر بورڈ کا تمام پیسہ خرچ ہو رہا ہے اور فرسٹ کلاس کھلاڑیوں کو کچھ نھیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشنز جو کہ اچھے کھلاڑی فراہم کرنے کے لیے نرسری کا کردار ادا کرتیں ہیں ان کے پاس نہ تو وسائل ہیں نہ سہولتیں وہ کیسے اچھے کھلاڑی تیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ارباب اختیار تمام اختیارات اور وسائل اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں اور ایسوسی ایشنز کو کچھ نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے آسٹریلیا اور انگلینڈ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی کاؤنٹیز اور ایسوسی ایشنز کو ہر سال اتنی گرانٹ دیتے ہیں جس سے یہ کاؤنٹیز مالی طور پر مستحکم ہو کر بہترین کھلاڑی تیار کرتی ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹو ماجد خان نے موجودہ سلیکشن کمیٹی پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ با صلاحیت کھلاڑیوں کو موقع دینے کی بجائے بندر بانٹ کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے ایسے کھلاڑی جن کو زمبابوے اور بنگلادیش کے خلاف آزمایا گیا پھروہ کھلاڑی نظر نہیں آئے۔ اس طرح کے رویے سے ملک کے با صلاحیت کھلاڑیوں کو ضائع کیا جا رہا ہے۔ ماجد خان نے کہا کہ جس طرح ایک سابق ٹیسٹ کرکٹر ماجد خان کو ڈائریکٹر سپیشل پراجیکٹ کے عہدے سے برخاست کیا گیا اس سے پرانے کھلاڑیوں کو سخت تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کی جانب سے سلیم الطاف کو ان کے عہدے پر بحال کرنے کے فیصلے کے بعد ڈاکٹر نسیم اشرف کو استعفی دے دینا چاہیے۔ ماجد خان نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا آئین دوبارہ بنایا جائے انہوں نے کہا کہ اس آئین کے تحت گورنگ بورڈ کے صرف پانچ رکن منتخب ہوتے ہیں جبکہ دس ارکان کی نامزدگی ہوتی ہے جو بالکل غلط طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب گورنمنٹ اور وفاقی حکومت کے جو ملازمین کرکٹ بورڈ میں ہیں انہیں واپس ان کے اداروں میں بھیجا جائے۔ ماجد خان نے کہا کہ کرکٹ بورڈ کی غلط پالیسیوں کو درست کرنے کے لیے وہ کرکٹ بورڈ کا انتظام سنبھالنے کے لیے تیارہیں۔ اس پریس کانفرنس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سیکریٹری وقار احمد اور سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد الیاس بھی موجود تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||