سہواگ سنچری، انڈیا کی جیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وریندر سہواگ اور سریش رائنا نے پاکستانی بولنگ کو مکمل طور پر بے بس کرتے ہوئے بھارت کو ایشیا کپ کے اہم میچ میں 6 وکٹوں سے کامیابی دلادی۔ وریندر سہواگ نے صرف 95گیندوں پر 12چوکوں اور5 چھکوں کی مدد سے 119رنز کی طوفانی اننگز کھیلی۔ سریش رائنا نے بھی محض 69گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے84 رنز سکور کیے جس میں10 چوکے اور3 چھکے شامل تھے۔ بھارت نے پاکستان کے سکور299 رنز چار کھلاڑی آؤٹ کے جواب میں 43 ویں اوور میں4 وکٹوں کے نقصان پر مطلوبہ سکور پورا کرلیا۔ بھارتی ٹیم کو اس جیت پر ملنے والے دو پوائنٹس اگلے مرحلے میں اس کے اکاؤنٹ میں رہیں گے جس کا فائدہ اسے حاصل رہے گا کیونکہ پاکستانی ٹیم بغیر کسی پوائنٹ کے چار ٹیموں کی لیگ میں داخل ہوئی ہے۔ سری لنکا کی ٹیم نے بھی بنگلہ دیش کے خلاف جیت کے ذریعے دو پوائنٹس حاصل کیے ہیں جبکہ بنگلہ دیش کا ایک بھی پوائنٹ نہیں ہے۔ ٹورنامنٹ کے قواعد کے مطابق اگلے مرحلے میں کوالیفائی کرنے والی چاروں ٹیموں نے اگر ایک دوسرے کے خلاف پوائنٹس حاصل کیے ہیں تو وہ دوسرے مرحلے میں اس کے پاس موجود رہیں گے۔ دوسرے مرحلے میں پہنچنے والی ٹیموں کے ہانگ کانگ اور امارات کے خلاف حاصل کردہ پوائنٹس ان کے مجموعی پوائنٹ میں شامل نہیں ہونگے۔ بھارتی اننگز میں سہواگ اور رائنا نے دوسری وکٹ کی شراکت میں 198 رنز کا اضافہ کیا۔ اس سے قبل گوتم گمبھیر صرف9 رنز بناکر راؤ افتخار کی گیند پر مصباح الحق کے خوبصورت کیچ پر آؤٹ ہوئے تھے۔ سریش رائنا کی وکٹ بھی راؤ افتخار نے حاصل کی لیکن پاکستانی بولنگ اس وقت غیرموثر ہوگئی جب عمر گل سائیڈ اسٹرین کی وجہ سے بولنگ کے قابل نہ رہے اور کپتان شعیب ملک جو بیٹنگ میں کریمپ پڑجانے کے سبب میدان سے باہر چلے گئے تھے بھارتی اننگز کے چودہویں اوور کے بعد میدان میں واپس آئے تھے اور قواعد وضوابط کے تحت تیئسویں اوور کے بعد بولنگ کرسکتے تھے لیکن انہوں نے بولنگ نہیں کی۔ 31 ویں اوور میں شاہد آفریدی نے وریندر سہواگ کو یونس خان کے ہاتھوں کیچ کرادیا لیکن اسوقت بھارت کا سکور231 ہوچکا تھا۔ کپتان مہندر سنگھ دھونی اور یوراج سنگھ کی63 رنز کی شراکت اسوقت ٹوٹی جب بھارتی ٹیم فتح کے لئے صرف چھ رنز کی دوری پر تھی۔ دھونی نے یونس خان کو چھکا لگاکر میچ کا اختتام کیا وہ 26 اور روحیت شرما صفر پر ناٹ آؤٹ رہے۔ اس سے قبل پاکستان نے شعیب ملک کی شاندار سنچری کی بدولت پچاس اوورز میں4 وکٹوں پر299 رنز بنائے تھے۔ پاکستانی کپتان کریمپ پڑجانے کے سبب 125 کے سکور پر بیٹنگ جاری نہ رکھ سکے۔ ان کی اننگز میں پندرہ چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ نیشنل سٹیڈیم میں ایشیا کپ کے اہم میچ کا ٹاس پاکستان نے جیتا اور پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا۔ شعیب ملک اور یونس خان نے رنز کی رفتار تیز کرتے ہوئے اپنی ٹیم کے لیے ایک بڑے سکور تک پہنچنے کی امید کو زندہ رکھا۔ شعیب ملک نے جو پریس کانفرنس میں صحافیوں کے چبھتے ہوئے سوالات اور اپنے تیز جوابات کے سبب ہمیشہ سرخیوں میں رہتے ہیں شاندار سنچری کے ذریعے بھی شہ سرخیوں میں آ گئے۔ وہ ون ڈے انٹرنیشنل میں چھٹی، بھارت کے خلاف تیسری اور بحیثیت کپتان پہلی سنچری ایک سو چار گیندوں پر مکمل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کی اننگز میں تیرہ چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ شعیب ملک نے آخری ون ڈے سنچری دوسال قبل بھارت کے خلاف لاہور میں بنائی تھی جس کے بعد54 میچز سنچری کے بغیر گزرگئے تھے۔ 122کے انفرادی سکور پر شعیب ملک کو کریمپ پڑجانے کے سبب رنر کی خدمات حاصل کرنی پڑیں لیکن125 کے سکور پر وہ اننگز جاری نہ رکھ سکے اور انہیں واپس جانا پڑا۔ یونس خان نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے پانچ چوکوں کی مدد سے59 رنز بنائے۔ انہیں یوسف پٹھان کی گیند پر سریش رائنا نے کیچ کیا۔ یونس خان اور شعیب ملک کے درمیان دوسری وکٹ کی شراکت میں129 رنز بنے۔ محمد یوسف نے 20گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے5 چوکوں کی مدد سے30 رنز بنائے۔ بھارتی فیلڈرز نے چار کیچز ڈراپ کیے۔ | اسی بارے میں کراچی میں ’بڑی ٹیموں کا بڑا میچ‘26 June, 2008 | کھیل پاکستان نے ہانگ کانگ کو ہرا دیا24 June, 2008 | کھیل ایشیا کپ: بھارت کی بڑی جیت25 June, 2008 | کھیل پول اے میں سری لنکا کی جیت25 June, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||