BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 June, 2008, 16:53 GMT 21:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایشیا کپ: بھارت کی بڑی جیت

 رائنا اور دھونی
رائنا اور دھونی سے شاندار سنچریاں سکور کیں
بھارت نے ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں ہانگ کانگ کو 256 رنز سے شکست دیدی۔

یہ ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں کسی بھی ٹیم کی رنز کے اعتبار سے دوسری بڑی جیت ہے۔2007ء کے عالمی کپ میں بھارت نے ہی برمودا کو257 رنز سے ہرایا تھا جبکہ 2003ء کے عالمی کپ میں آسٹریلیا نے نمیبیا کے خلاف 256 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔

بھارت نے مقررہ پچاس اوورز میں سریش رائنا اور مہندر سنگھ دھونی کی شاندار سنچریوں کی بدولت چار وکٹوں پر374 رنز بنائے جو ایشیا کپ میں کسی بھی ٹیم کا سب سے بڑا سکور بھی ہے۔ اس سے قبل2004ء میں پاکستان نے ہانگ کانگ کے خلاف پانچ وکٹوں پر343 رنز بنائے تھے۔

جواب میں ہانگ کانگ کی ٹیم37 ویں اوور میں118 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔ عرفان احمد 25 رنز کے ساتھ ٹاپ سکورر رہے۔ بھارت کی طرف سے لیگ سپنر پیوش چاؤلہ نے کیریئر بیسٹ بولنگ کی اور صرف23 رنز دے کر4 وکٹیں حاصل کیں۔

مہندر سنگھ دھونی نےسنچری بنانے کے بعد تین کھلاری سٹمپ کیے اور ایک کیچ بھی لیا تاہم مین آف دی میچ سریش رائنا رہے۔ سریش رائنا پہلی مرتبہ ون ڈے میں تین ہندسوں کی اننگز کھیلنے میں کامیاب ہوئے۔

ان دونوں کے علاوہ وریندر سہواگ اورگوتم گمبھیر نے بھی عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے نصف سنچریاں بنائیں۔ ہانگ کانگ کے بولرز جنہوں نے پاکستان کی سات وکٹیں صرف ایک سو اکسٹھ رنز پر حاصل کرکے سب کو حیران کردیا تھا بھارتی بیٹنگ لائن پر اپنا اثر دکھانے میں ناکام رہے۔

دھونی نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔گوتم گمبھیر اور وریندر سہواگ نے پہلی وکٹ کی شراکت میں127 رنز کا اضافہ کیا۔سہواگ نے انتہائی جارحانہ انداز اختیار کیا اور صرف 27گیندوں پر نو چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے نصف سنچری مکمل کی لیکن 78 کے سکور پر وہ نجیب امر کی گیند پر عرفان احمد کے ہاتھوں کیچ ہوگئےان کی اننگز میں 13 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔

گوتم گمبھیر سات چوکوں کی مدد سے51 رنز بناکر نجیب امر کی گیند پر رائے لمسم کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ روحیت شرما کے گیارہ رنز پر رن آؤٹ ہونے کے بعد کپتان مہندر سنگھ دھونی اور سریش رائنا نے چوتھی وکٹ کی شراکت میں166 رنز کا اضافہ کرکے ہانگ کانگ کی مایوسی کو انتہا تک پہنچادیا۔

یہ ایشیا کپ میں چوتھی وکٹ کی ریکارڈ شراکت بھی ہے اس سے قبل1990ء میں سری لنکا کے ارجنا رانا تنگا اور اروندا ڈی سلوا نے بنگلہ دیش کے خلاف کولکتہ میں چوتھی وکٹ کے لئے139 رنز بنائے تھے۔

سریش رائنا نے اپنی بتیسویں اننگز میں پہلی ون ڈے سنچری صرف 66گیندوں پر7 چوکوں اور 5چھکوں کی مدد سے مکمل کی۔ ان کی جارحانہ بیٹنگ کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنی دوسری نصف سنچری صرف سولہ گیندوں پر پانچ چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے مکمل کی۔وہ 101رنز بناکر افضال حیدر کی گیند پر عرفان احمد کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔

مہندر سنگھ دھونی 90گیندوں پر پانچ چوکوں اور چھ چھکوں کی مدد سے تین ہندسوں تک پہنچے۔وہ چھ چوکوں اور چھ چھکوں کے ساتھ109 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے یہ ون ڈے انٹرنیشنل میں ان کی چوتھی سنچری ہے۔

رابن اتھپا پندرہ رنز کے ساتھ دوسرے ناٹ آؤٹ بیٹسمین تھے۔نجیب امر دو وکٹوں کے ساتھ ہانگ کانگ کے سب سے کامیاب بولر رہے ۔ پاکستان کے خلاف چار وکٹیں حاصل کرنے والے ندیم احمد کوئی وکٹ حاصل نہ کرسکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد