BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 June, 2008, 21:46 GMT 02:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان کو دباؤ میں لے آئے تھے‘

تبارک ڈار
تبارک ڈار میچ کے دوران عمر گل کا باؤنس لگنے سے زخمی ہوگئے تھے
ہانگ کانگ کی کرکٹ ٹیم کے کپتان تبارک ڈار کو اس بات کی خوشی ہے کہ ان کی ٹیم پاکستان کی مضبوط ٹیم کو دباؤ میں لے آئی اور ان کے خیال میں اگر ہانگ کانگ کے بولرز سہیل تنویر اور فواد عالم کی شراکت توڑ دیتے تو پاکستان کے لیے دو سو رنز تک پہنچنا بھی مشکل ہوجاتا۔

پاکستان کے خلاف میچ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے تبارک ڈار نے کہا کہ ان کی ٹیم میچ کے کچھ حصوں میں اچھا کھیلی لیکن ون ڈے میچ جیتنے کے لیے کارکردگی ہر سیشن میں اچھی ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کی سات وکٹیں صرف ایک سو اکسٹھ پر حاصل کرنے سے وہ زبردست دباؤ قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے اور پاکستانی ٹیم بیک فٹ پر آگئی تھی اگر وہ سنچری پارٹنرشپ نہ ہوتی اور اس وقت انہیں وکٹ مل جاتی تو صرف بولرز ہی بچے تھے‘۔

ہانگ کانگ کے کپتان نے لیفٹ آرم سلو بولر ندیم احمد کی تعریف کی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے انہیں سات اوورز کے بعد بولنگ سے کیوں ہٹادیا جبکہ وہ چار وکٹیں حاصل کرتے ہوئے پاکستانی ٹیم پر دباؤ ڈالے ہوئے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ پچاس اوورز کے میچ میں دوسرے بولرز نے بھی بولنگ کرنی تھی لہذا ان کی جگہ وہ کسی دوسرے کو بولنگ کے لیے لے آئے تھے۔

تبارک ڈار تسلیم کرتے ہیں کہ میچ فٹنس کا مسئلہ ان کی ٹیم کے ساتھ درپیش ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہانگ کانگ میں رہ کر کرکٹ کھیلنے کا مطلب اس کھیل سے محبت ہے۔ ہانگ کانگ کی ٹیم میں زیادہ تر پاکستان میں پیدا ہونے والے کرکٹرز ہیں اور اس ٹیم میں اکثریت ایسے کرکٹرز کی ہے جو نوجوان ہیں اور طالبعلم ہیں۔ تبارککے مطابق’ بین الاقوامی کرکٹ میں تجربہ بڑی اہمیت رکھتا ہے انہیں جتنے میچز ملیں گے ان کی کارکردگی میں بہتری آئے گی‘۔

ہانگ کانگ کی ٹیم اب بدھ کو بھارت کی مضبوط ٹیم کے مقابل ہوگی۔ تبارک ڈار کہتے ہیں کہ پاکستان کے مقابلے میں بھارتی ٹیم موجودہ کارکردگی کے لحاظ سے مضبوط ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس کے لیے آسان حریف بنیں گے ان کی کوشش ہوگی کہ ایک اور اچھی کارکردگی دکھائیں۔

پاکستانی کپتان شعیب ملک یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ ہانگ کانگ کے خلاف ان کی ٹیم کی کارکردگی بہت خراب رہی۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ میں ہر ٹیم مشکل سے دوچار ہوتی ہے لیکن وہ سات وکٹیں گرنے کے باوجود پریشان نہیں تھے اور انہیں یقین تھا کہ اگر ان کی ٹیم دو سو سے کچھ زیادہ رنز بھی بنالیتی ہے تو ان کے بولرز انہیں میچ جتواسکتے ہیں۔

شعیب ملک نے کہا کہ ٹاپ آرڈر بیٹنگ کی ناکامی سے لوئر آرڈر بیٹنگ کو صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملا اور انہیں خوشی ہے کہ فواد عالم اور سہیل تنویر نے عمدہ بیٹنگ کی۔ شعیب نے مصباح الحق کی کارکردگی پر اعتراض کو مسترد کردیا اور کہا کہ’نچلے اوورز میں انہیں جتنا بھی موقع ملا ہے وہ سکور کر رہے ہیں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد