BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 June, 2008, 01:08 GMT 06:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی میں ’بڑی ٹیموں کا بڑا میچ‘

پاکستان اور بھارت کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے
ہانگ کانگ کی ناتجربہ کاری کا فائدہ اٹھا کر اسے ایشیا کپ سے باہر کر دینے والی دو بڑی ٹیمیں پاکستان اور بھارت کا جمعرات کو نیشنل اسٹیڈیم میں مدِ مقابل ہوں گی۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے اسی ماہ بھارت کو بنگلہ دیش میں کھیلی گئی سہ فریقی سیریز کے فائنل میں شکست دی ہے جبکہ لیگ میچ میں بھارت نے پاکستان کو ہرایا تھا۔

پاکستان کے کپتان شعیب ملک کا کہنا ہے کہ سہ فریقی سیریز کے فائنل میں بھارت کے خلاف جیت سے ٹیم کا مورال ضرور بلند ہوا ہے لیکن برصغیر کی وکٹوں پر بھارتی ٹیم بہت مضبوط ہے۔

شعیب کے مطابق انہیں اپنے شائقین کی توقعات کا احساس ہے اور وہ ان کی توقعات پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔

بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی ٹیم متوازن ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ کون کنڈیشن سے فائدہ اٹھاتا ہے انہوں نے کہا کہ نیشنل اسٹیڈیم کی وکٹ میں اسپنرز کے لیے مدد موجود ہے۔ اگر ابتدائی کامیابی مل جائے تو آپ مڈل آرڈر کو بڑے سکور تک پہنچنے سے روک سکتے ہیں اس لحاظ سے نئی گیند کا کردار اہم ہوگا۔ اسی طرح اوپنرز پر بھی بڑی ذمہ داری ہوگی کہ کس طرح ان کی اچھی کارکردگی کی مدد سے بڑا ہدف حریف ٹیم کو دیا جاسکتا ہے‘۔

پاکستانی کوچ جیف لاسن نے بھارت کے خلاف میچ میں اسی ٹیم کو میدان میں اتارنے کا عندیہ دیا ہے جو ہانگ کانگ کے خلاف کھیلی تھی جبکہ بھارتی فاسٹ بولر عرفان پٹھان میچ سے قبل فٹنس ٹیسٹ دیں گے۔ کپتان دھونی کا کہنا ہے کہ وہ عرفان پٹھان کے معاملے میں کوئی رسک لینا نہیں چاہتے مکمل فٹ ہونے کی صورت میں ہی وہ میچ کھیل سکیں گے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان اب تک 115 ون ڈے انٹرنیشنل کھیلے جا چکے ہیں جن میں سے پاکستان نے66 جیتے ہیں،44 میں بھارت نے کامیابی حاصل کی ہے جبکہ 4 میچ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکے۔

پاک بھارت روایتی کرکٹ کے بارے میں بھارتی کپتان کہتے ہیں کہ جب دونوں ملکوں کی کرکٹ میں طویل وقفہ آتا تھا تو لوگ کہتے تھے کہ ان کی کرکٹ نہیں ہو رہی ہے اور اب جب دونوں تواتر کے ساتھ کھیل رہے ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ دونوں بہت زیادہ کرکٹ کھیل رہے ہیں جو بھی ہورہا ہے وہ ان کے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ کرکٹ بورڈز جو بھی شیڈول بناتے ہیں کرکٹرز اسی کے مطابق کھیلتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد