کیمپ کے لیے 20 کھلاڑیوں کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی نے چوبیس جون سے شروع ہونے والےایشیاء کپ کے لیے پاکستان کی ٹیم کا اعلان کرنے کی بجائے بیس سے بائیس جون تک کراچی میں لگنے والے کیمپ کے لیے بیس کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ سلیکشن کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان بیس کھلاڑیوں کی کارکردگی کو کراچی میں لگنے والے کیمپ میں دیکھنے کے بعد بائیس جون کو ٹیم کا اعلان کیا جائے گا۔ کیمپ کے ان بیس کھلاڑیوں میں وکٹ کیپر کامران اکمل کا نام شامل نہیں ہے اور ان کی جگہ وکٹ کیپر سرفراز احمد کو لیا گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ صلاح الدین صلو کا کہنا ہے کہ کامران اکمل کو آرام دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چار سال سے جب ایک کھلاڑی کھیل رہا ہوتا ہے تو اس کی کارکردگی کا گراف کبھی نیچے بھی آ جاتا ہے اور ان کی موجودہ کارکردگی کے سبب انہیں ٹیم میں نہیں لیا جا رہا۔ ’انہیں ڈومیسٹک کرکٹ میں کھیل کر اپنی کارکردگی کو بہتر کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے تاہم صلاح الدین صلو اس بات پر مصر تھے کہ کامران اکمل ابھی بھی پاکستان کے نمبر ایک وکٹ کیپر ہیں۔‘ بنگلہ دیش میں سہ فریقی ٹورنامنٹ میں بھارت کے خلاف پہلے میچ میں پاکستان کی 140 رنز کی شکست کے بعد کرکٹ بورڈ کے چئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے مینیجمنٹ کو جو خط لکھا تھا اس میں خاص طور پر وکٹ کیپنگ کے معیار پر تنقید کی تھی اور کامران اکمل کی ٹیم سے چھٹی کسی حد تک متوقع تھی۔ صلاح الدین صلو سے دریافت کیا گیا کہ ایشیاء کپ جیسے بڑے ٹورنامنٹ میں سرفراز احمد کو شامل کرنا نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے، تو صلاح الدین صلو کوئی واضح جواب نہیں دے سکے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کو سرفراز احمد پر پورا اعتماد ہے۔ صلاح الدین صلو کے مطابق شعیب اختر اور محمد آصف جیس عالمی سطح کے کھلاڑی نہ ہونے کے سبب ٹیم کو فاسٹ بالنگ کے شعبے میں نقصان ہوا ہے اور ہمیں اس پر کافی غور کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ان بیس کھلاریوں میں چھ فاسٹ بالرز رکھے گئے ہیں اور آج ٹیم کا اعلان نہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کراچی کے کیمپ میں ان چھ کے چھ فاسٹ بالرز کو سلیکشن کمیٹی دیکھے گی اور پھر پندرہ کھلاریوں میں جو بہتر فاسٹ بالر ہوں گے رکھے جائیں گے۔ صلاح الدین صلو کے مطابق ٹیم کا اعلان نہ کرنے کی ایک اور وجہ سید اجمل نامی آف سپنر کو پرکھنا بھی تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سید اجمل نے ڈومیسٹک کرکٹ میں اس سال 38 وکٹیں لی ہیں اور حریف ٹیموں کو دیکھتے ہوئے ایک فل ٹائم آف سپنر کی ٹیم کو ضرورت ہے۔ ’لیکن سید اجمل کو کیمپ میں دیکھنے کے بعد ہی انہیں ٹیم میں رکھنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔‘ کیمپ کے لیے کھلاڑی شعیب ملک (کپتان)، سلمان بٹ، یونس خان، محمد یوسف، مصباح الحق، شاہد آفریدی، فواد عالم، سہیل تنویر، سرفراز احمد، عمر گل، راؤ افتخار، سہیل خان، وہاب ریاض، عبدالرؤف، ناصر جمشید، بازید خان، امان اللہ، منصور امجد، سید اجمل۔ | اسی بارے میں پاکستان کی فائنل میں کامیابی14 June, 2008 | کھیل فیڈرر، ندال فرینچ اوپن فائنل میں06 June, 2008 | کھیل سہ فریقی سیریز، پاک ٹیم کا اعلان02 June, 2008 | کھیل ’چیمپیئنز ٹرافی کے انعقاد پر خوشی‘17 June, 2008 | کھیل ’چیمپئنز ٹرافی انعقاد پاکستان میں ممکن‘19 June, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||