BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 June, 2008, 00:25 GMT 05:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چیمپئنز ٹرافی پاکستان میں’ممکن‘

رے مالی
آئی سی سی کے وفد نے قذافی سٹیڈیم میں گراؤنڈ کی سطح اور وکٹ کا جائزہ لیا
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے قائم مقام چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈسن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آئی سی سی چیمپئنزٹرافی کے انعقاد کے پورے امکانات ہیں لیکن آئی سی سی پاکستان میں سکیورٹی کے حالات پر مسلسل نظر رکھے گا۔

انہوں نے یہ بات لاہور میں چیمپئنز ٹرافی 2008 کے سلسلے میں ہونے والی تقریب سے پہلے ایک پریس کانفرنس میں کہی۔ اس پریس کانفرنس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی، پاکستان کی ٹیم کے نائب کپتان مصباح الحق اور ٹورنامنٹ ڈائریکٹر احمد فاروق بھی موجود تھے۔

آئی سی سی کے قائم مقام چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈسن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے موجودہ حالات چیمپئنز ٹرافی کے انعقاد کے لیے سازگار ہیں اور ان حالات میں چیمپئنز ٹرافی کے انعقاد پر پر جوش اور مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں یہ اہلیت ہے کہ وہ اس ٹورنامنٹ کا انعقاد بہتر طریقے سے کر سکتا ہے۔

ڈیوڈ رچرڈسن نے کہا کہا کہ وہ حتمی طور پر تو نہیں کہہ سکتے کہ پاکستان میں یہ ٹورنامنٹ ضرور ہوگا کیونکہ سکیورٹی کے حالات کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا اور آئی سی سی کے نزدیک اس ٹورنامنٹ میں شریک ہر شخص کی حفاظت سب سے بڑی ترجیح ہے اور وہ سکیورٹی کے حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ڈیوڈ رچرڈسن نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ حالات بہتر رہیں گے اور پاکستان میں یہ ٹورنامنٹ منعقد ہو گا۔

ایک سوال پر کہ اگر سب کچھ ٹھیک رہا لیکن پھر بھی کسی ملک نے آخری وقت میں پاکستان آنے سے انکار کر دیا تو آئی سی سی اس کے خلاف کیا کارروائی کرے گا۔

ڈیوڈ رچرڈسن کا کہنا تھا کہ تمام کرکٹ کھیلنے والے ہرملک نے آئی سی سی کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں اور وہ اس معاہدے کے تحت آئی سی سی کے ہر ٹورنامنٹ میں شرکت کے پابند ہیں۔ ڈیوڈ رچرڈسن کا کہنا تھا کہ اگر آئی سی سی کسی ملک میں کوئی ٹورنامنٹ کروانے کا فیصلہ کرتی ہے تو ان ممالک کو اس فیصلےکا احترام کرنا ہوگا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ ملک اس معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا۔

آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ آئی سی سی کسی ملک کو زبردستی تو آمادہ نہیں کر سکتی لیکن اس ملک کو معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں نتائج کا اندازہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اب تک کے انتظامات سے مطمئن ہیں تاہم ابھی کچھ وقت ہے اور مزید کام کرنا ہوگا اس سلسلے میں آئی سی سی تمام عمل پر نظر رکھے گی۔

ایک سوال کے جواب میں ڈیوڈ رچرڈسن کا کہنا تھا کہ کرکٹ سے بد عنوانی ختم کرنے کے لیے آیی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ پوری کوشش کر رہا ہے۔

فاسٹ بالر محمد آصف کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اگر محمد آصف قصور وار ہوئے تو آئی سی سی اس سلسلے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی کیونکہ ہم عالمی ڈوپنگ ایجینسی کے ساتھ منسلک ہیں۔

اس پریس کانفرنس میں پاکستان کی ٹیم کے کپتان شعیب ملک نے شریک ہونا تھا لیکن ان کی جگہ شرکت کی نائب کپتان مصباح الحق نے کی۔ مصباح الحق نے کہا وہ اتنے بڑے ٹورنامنٹ کے پاکستان میں منعقد ہونے پر بہت خوش ہیں اور ان کے ٹیم میں آنے کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان میں اتنا بڑا ٹورنامنٹ ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ شائقین کو بہت اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی اور وہ اس کے منتظر ہیں۔

تقریب میں پاکستان کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے حکومت پاکستان کی جانب سے چمپئنز ٹرافی کے لیے فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کی یقین دھانی کروائی۔
اس تقریب میں آٹھ رقاصوں نے انوکھے انداز میں رقص کرتے ہوئے کرکٹ کے کھیل کو ایک الگ طریقے سے پیش کیا۔تقریب میں چیمپئز ٹرافی کے لوگو اور ٹرافی کی نقاب کشائی کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد