گول کیپنگ اہم مسئلہ ، نوید عالم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی ہاکی ٹیم کے کوچ نوید عالم کا کہنا ہے کہ کارکردگی میں بہتری ضرور آئی ہے لیکن گول کیپنگ سمیت بعض بڑی خامیوں کو فوری طور پر دور کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ جبکہ سابق ہاکی اولمپئنز کا خیال ہے کہ اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں بیلجیئم اور بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد اولمپکس میں پاکستانی ٹیم سے توقعات وابستہ نہ کی جائیں۔ واضح رہے کہ پاکستانی ٹیم کی اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کے فائنل تک رسائی کا انحصار ہفتے کے روز ہونے والے بھارت اور ملائشیا کے میچ پر ہے جس کے ڈرا ہونےیا بھارت کی شکست کی صورت میں ہی پاکستانی ٹیم فائنل میں پہنچ سکے گی۔ پاکستانی ہاکی ٹیم کے کوچ نوید عالم نے اپوہ ملائشیا سے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ گول کیپنگ کے شعبے نے مایوس کیا ہے کیونکہ کئی گول ایسے ہوئے ہیں جو روکے جا سکتے تھے۔اس کے علاوہ مشکل صورتحال میں اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے کھلاڑی صحیح فیصلے نہیں کر پا رہے ہیں۔ مسنگ کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ ان خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔انہیں امید ہے کہ یورپی دورے میں ان مسائل پر قابو پا لیا جائے گا۔ پاکستانی ٹیم کے سابق کوچ شہناز شیخ ٹیم کی غیرمستقل مزاج کارکردگی کی وجہ کھلاڑیوں کی ڈھلتی عمر کو قرار دیتے ہیں۔ جدہ سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شہناز شیخ کا کہنا تھا کہ موجودہ ٹیم کی اوسط عمر اٹھائیس انتیس سال ہے جبکہ صف اول کی ٹیموں کی اوسط عمر چوبیس پچیس سال ہے۔ پاکستانی کھلاڑی جوش کے ساتھ ٹورنامنٹ کا آغاز کرتے ہیں لیکن ہر میچ کے بعد ان کی قوت اور مزاحمت میں کمی آنے لگتی ہے۔
شہناز شیخ کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی ٹیم اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ جیت بھی لیتی ہے تب بھی اسے اولمپکس میں پاکستانی ٹیم کی کامیابی کی ضمانت نہیں کہا جاسکتا کیونکہ اولمپکس میں تمام ہی صف اول کی ٹیمیں ہونگی جو اذلان شاہ ٹورنامنٹ میں نہیں ہیں۔ شہناز شیخ نے کہا کہ اذلان شاہ ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم نے اٹھارہ گول کئے ہیں اور سولہ گول اس کے خلاف ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ اولمپکس میں پاکستانی ٹیم کو کوئی بھی اٹھارہ گول نہیں کرنے دے گا البتہ سولہ گول اس پر ضرور ہوسکتے ہیں۔ سابق کپتان حنیف خان بھی شہناز شیخ کے ہم خیال ہیں کہ موجودہ کارکردگی کے پیش نظر اولمپکس میں پاکستانی ٹیم سے توقعات رکھنا غلط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اذلان شاہ ٹورنامنٹ میں کمزور سے کمزور ٹیم نے پاکستان کے خلاف برتری حاصل کی ہے۔ ’ہمارے دفاعی کھلاڑی حریف فارورڈز کو مارک ہی نہیں کر پاتے۔‘ سابق کپتان شہباز سینئر نے مدینہ سے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اصلاح الدین اور منظور الحسن کی جگہ اکہتر سالہ خواجہ ذکاء الدین کو چیف کوچ بنائے جانے کو غلط فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ کوچ کو عملی طور پر بھی کھلاڑیوں کو سکھانا ہوتا ہے۔ ذکاء الدین کی یقیناً ہاکی میں خدمات ہیں لیکن اس مرحلے پر انہیں اگر کوئی عہدہ دینا ہی تھا تو ایڈوائزر بنا دیا جاتا یا پھر چیف سلیکٹر یا چیف ڈی مشن مقرر کردیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ ’وقت کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے کوچنگ کے انداز کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے کھلاڑیوں کی عمدہ کارکردگی اور جوش ولولہ پہلے دو تین میچوں کے بعد ہی ختم ہوجاتی ہے جبکہ یورپی ٹیمیں فیصلہ کن مرحلے پر آ کر اپنی بھرپور فارم میں ہوتی ہیں۔‘ شہباز سینئر جن کی قیادت میں پاکستان نے1994 کا عالمی کپ جیتا تھا کہتے ہیں کہ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہئے کہ پاکستانی ہاکی کے سنہرے دن ختم ہوگئے اب یہ سب کچھ ماضی بن چکا ہے۔ | اسی بارے میں اذلان شاہ ٹورنامنٹ، ہاکی ٹیم کا اعلان23 April, 2008 | کھیل تین کھیلوں میں وائلڈ کارڈ انٹری12 May, 2008 | کھیل بھارتی ہاکی ٹیم اولمپکس سے باہر10 March, 2008 | کھیل منظور الحسن بطور کوچ فارغ12 February, 2008 | کھیل اصلاح کی جگہ ذکاء الدین منیجر30 January, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||