BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 February, 2008, 11:26 GMT 16:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
منظور الحسن بطور کوچ فارغ

اصلاح الدین (فائل فوٹو)
اس سے قبل اصلاح الدین کو منیجر اور چیف کوچ کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا اور پھر انہیں چیف سیلکٹر بنا دیا گیا
پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ہاکی ٹیم کے ڈھانچے میں ایک اور بڑی تبدیلی کرتے ہوئے سابق اولمپئن منظور الحسن کو کوچ کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

اس سے قبل اصلاح الدین کو منیجر اور چیف کوچ کے عہدے سے ہٹاکر خواجہ ذکاء الدین کو یہ ذمہ داری سونپی جاچکی ہے جبکہ اصلاح الدین کو اب چیف سلیکٹر بنادیا گیا ہے۔

منظور الحسن کی جگہ نوید عالم، شہباز جونیئر اور ارشد حسین کو کوچز بنایا گیا ہے جو خواجہ ذکاء الدین کی معاونت کریں گے۔

منظور الحسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے فیصلے پر حیرانگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیڈریشن کے کسی ذمہ دار شخص نے ان سے رابطہ کر کے انہیں کوچ کے عہدے سے ہٹانے کی اطلاع دینے کی زحمت تک نہیں کی اور انہیں میڈیا کے ذریعے یہ بات پتہ چلی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وجہ بتائے بغیر کوچ کے عہدے سے ہٹانے کے فیصلے سے انہیں بہت تکلیف ہوئی ہے۔

منظور الحسن نے کہا کہ انہیں یہ بتایا جائے کہ کوچ کے عہدے سے انہیں ہٹانے کی وجہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم راتوں رات تیار نہیں ہوتی۔ انہوں نے جب کوچ کی ذمہ داری سنبھالی تھی تو یہ بات سب پر عیاں تھی کہ پاکستانی ٹیم کو جیت کی راہ پر لانے کے لیے طویل وقت اور سخت محنت درکار ہوگی لیکن اب جبکہ اولمپکس میں صرف سات ماہ رہ گئے ہیں انہیں ہٹا دیا گیا ہے۔

منظور الحسن نے کہا کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ نئی منیجمنٹ مطلوبہ نتائج دے سکے گی اس بات کے امکانات زیادہ روشن ہیں کہ خراب کارکردگی کے سبب یہ لوگ یہ جواز پیش کردیں کہ انہیں کوچ بنے چند ہی ماہ ہوئے تھے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم میرظفراللہ جمالی نے جو پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر ہیں گزشتہ سال اپریل میں اصلاح الدین اور منظور الحسن کو بیجنگ اولمپکس تک ٹیم تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔

اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ یہ دونوں انتہائی تجربہ کار ہیں اور ٹیم کو درست سمت میں گامزن کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں لیکن بیجنگ اولمپکس سے قبل یہ دونوں اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش کردیئے گئے ہیں۔

اصلاح الدین اور منظور الحسن کے تحت پاکستانی ٹیم 1990 کے لاہور ورلڈ کپ اور اسی سال کے بیجنگ ایشین گیمز میں سونے کا تمغہ جیت چکی ہے۔

نوید عالم اور شہباز جونیئر اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ ارشد حسین نے گول کیپر کی حیثیت سے پانچ انٹرنیشنل میچز کھیل چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد