ہرجانے کا مقدمہ واپس لینےکا فیصلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فاسٹ بولر شعیب اختر اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کے درمیان مشیر داخلہ رحمان ملک کی کوششوں کے نتیجے میں مصالحت ہوگئی ہے جس کے بعد ڈاکٹر نسیم اشرف نے شعیب اختر کے خلاف سول کورٹ میں دائر ہرجانے کا مقدمہ واپس لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ تاہم ایپلیٹ کمیٹی میں پانچ سالہ پابندی کے خلاف شعیب اختر کی اپیل کی سماعت پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ایپلیٹ کمیٹی نے پانچ سالہ پابندی معطل کرکے انہیں آئی پی ایل کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔ واضح رہے کہ شعیب اختر نے ڈسپلن کی خلاف ورزی پر پانچ سالہ پابندی کے بعد شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ڈاکٹر نسیم اشرف پرمبینہ طور پر آئی پی ایل کے کنٹریکٹ میں کمیشن لینے کا الزام عائد کیا تھا جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے شعیب اختر کےخلاف بیس کروڑ روپے کے ہرجانے کا دعوی مقامی عدالت میں دائر کیا تھا اس مقدمے کی سماعت شروع ہوچکی تھی۔ مشیر داخلہ رحمان ملک کی موجودگی میں شعیب اختر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین سے اپنے ریمارکس پرمعافی مانگ لی۔ شعیب اختر اس سے قبل ایپلیٹ کمیٹی کے سامنے بھی اپنے متنازعہ ریمارکس پر معافی مانگ چکے ہیں۔ ایپلیٹ کمیٹی کے چیئرمین جسٹس ( ریٹائرڈ) آفتاب فرخ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مشیر داخلہ کے ذریعے شعیب اختر اور ڈاکٹر نسیم اشرف میں مصالحت کا ایپلیٹ کمیٹی کی کارروائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ حکومتی اہلکار کی اس معاملے میں دلچسپی اگر ایپلیٹ کمیٹی کے فیصلے کے وقت بھی اگر نظر آئی تو جسٹس ( ریٹائرڈ) آفتاب فرخ نے کہا کہ وہ کسی کے دباؤ میں آنے والے شخص نہیں اگر حکومت یا کرکٹ بورڈ چاہے تو ان کے ٹریبونل کو تحلیل کرسکتے ہیں انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔وہ جو فیصلہ کرینگے قانون اور ضمیر کو سامنے رکھ کر کریں گے۔ | اسی بارے میں کھیلنے پر پابندی، شعیب کی اپیل03 May, 2008 | کھیل شعیب پر 22 کروڑ روپے کا دعویٰ 02 May, 2008 | کھیل شعیب کہیں بھی نہیں کھیل سکتے30 April, 2008 | کھیل شعیب اختر نے معافی مانگ لی28 April, 2008 | کھیل امید ہے انصاف ہو گا: شعیب اختر17 April, 2008 | کھیل ’شعیب کو صفائی کا پورا موقع ملےگا‘15 April, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||