BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 April, 2008, 06:27 GMT 11:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرکٹ میں گلابی گیند
یہ میچ ایم سی سی اور سکاٹ لینڈ کے درمیان کھیلا گیا
کرکٹ کی دنیا میں پہلی مرتبہ لندن کے تاریخی گراونڈ لارڈز میں سوموار کو ایم سی سی الیون اور سکاٹ لینڈ میں پچاس اووروں کے ایک میچ میں سفید نہ لال بلکہ گلابی گیند استعمال کی گئی۔

محدود اووروں کے ایک روزہ میچ میں گلابی گیند استعمال کرنے کا یہ تجربہ اگر کامیاب رہا تو دو ہزار نو میں ٹونٹی ٹونٹی اور محدود اووروں کے بین الاقوامی میچوں میں گلابی گیند ہی رائج کر دی جائے گی۔

سیفد رنگ کی گیند کو جو فی الوقت ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں استعمال کی جاتی ہے، بعض اوقات کھلاڑیوں کو دیکھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔

گیند مٹی اور گھاس کی وجہ سے اپنا رنگ کھو دیتی ہے جبکہ بالروں کو بھی اسے رگڑنا پڑتا ہے جس وجہ سے پینتیس اوور ہی میں گیند کو تبدیل کیا جانا لازمی ہو جاتا ہے۔

لارڈز سے پہلے آسٹریلیا کے شہر برسبن میں خواتین کے ایک میچ میں گلابی گیند استعمال کی جا چکی ہے جس میں اس تجربے کو کامیاب قرار دیا گیا تھا۔

سفید گیند کا استعمال تیس سال پہلے کیا گیا تھا

لارڈز میں سکاٹ لینڈ اور ایم سی سی کے درمیان میچ میں دو مختلف گیند سازوں کی گیندیں استعمال کی گئیں۔ سکاٹ لینڈ کی اننگز کے دوران کوکابورا جب کے ایم سی سی کی اننگز ڈیوک بال سے ہوئی۔

ایم سی سی کلب کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں یہ کام سونپا گیا تھا کہ وہ ایسی سفید گیند تلاش کریں جو پچاس اوور چل سکے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں کوکابوار کی چمکتی ہوئی گلابی گیند پیش کی گئی تو انہیں خیال ہوا کہ یہ پچاس اوور چل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا ’لہذا اس موسم گرما میں ہم نے تجرباتی طور پر کچھ میچوں میں گلابی گیند استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

انہوں نے کہا کہ اس موسم کے اختتام پر ان تجربات سے نتائج اخذ کیئے جائیں گے اور پھر ان پر ایک رپورٹ انگلینڈ اور ویلز کے کرکٹ بورڈز کو پیش کی جائے گی۔

لارڈز میں کھیلے جانے والے میچ میں سکاٹ لینڈ نے پہلے بیٹنگ کی جس میں کپتان رین واٹسن نے صرف ایک سو تیرہ گیندوں میں اکانوے رنز بنائے اور اس طرح مقررہ پچاس اووروں میں سات ووکٹوں کے نقصان پر دو سو ستاون رنز بنے۔

تاہم ایم سی سی نے یہ ہدف چھ وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا اور اس میچ میں چار وکٹ سے فتح مند ہوئےجبکہ ابھی پچاس اوور ہونے میں آٹھ گیندیں باقی تھیں۔

سٹیفن گلابی گیند کے تجربے سے خوش تھے کیونکہ اتنے رنز بننے کے باوجود بھی اس گیند کا رنگ جو کہ اصل میں سفید تھا اور اس پر گلابی رنگ کیا گیا تھا اپنی اصل حالت میں رہا۔

پچاس اوور کے بعد بھی گلابی گیند کافی واضح تھی اور اس پر کیا ہوا تھوڑا سا گلابی رنگ کہیں کہیں سی اتر گیا تھا اور اس کے نیچے جو سیفد رنگ وہ نظر آرہا تھا۔

انگلینڈ اور کینٹ کاونٹی کے سابق بالر من پٹیل نے اس میچ میں سینتیس رن دے کر ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ گلابی گیند کے اس تجربے پر انہوں نے کہا کہ نئی اور پرانی گیند میں بہت معمولی سا فرق ہے اور انہوں کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ کیوں آئندہ بین الاقوامی میچ میں گلابی گیند استعمال نہ کی جاے۔

انہوں نے کہا کہ گیند کرنے میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوا نہ ہی گیند کا رویہ مختلف تھا تاہم باونڈری لائن کے قریب فیلڈ کرتے وقت گیند پر نظر رکھنےمیں کافی آسانی رہی۔

انہوں نے کہا کہ آسمان پر سیفد بادلوں اور سیفد رنگ کی کرسیوں کے پس منظر میں سیفد رنگ کی گیند کو دیکھنے میں دشواری ہو سکتی تھی لیکن گلابی گیند سفید پس منظر میں واضح طور پر نظر آتی رہی۔

’ہم شائقین کی اس کھیل میں دلچسپی برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ بھی کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ایک ایسی بال استعمال کی جائے جو باونڈری کے باہر سے بھی آسانی سے دیکھی جا سکے تو اس سے شائقین کی دلچسپی بڑھے گی۔‘

تیس سال قبل کیری پیکر سیریز کی ورلڈ کرکٹ سیریز میں پہلی مرتبہ سفید گیند استعمال کی گئی تھی۔ ان تیس سالوں کے دوران انیس سو اناسی میں نارنجی گیند کا بھی تجربہ کیا گیا لیکن یہ ٹی وی کیمروں پر واضح طور پر نہیں دیکھی جا سکتی تھی اس لیے اس کو ترک کر دیا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد