BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 February, 2008, 02:57 GMT 07:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جونیئر کوچ کی طرف سےٹیم کادفاع

ہاکی(فائل فوٹو)
’کھلاڑی پہلی بار یورپی ٹیموں کے سامنے تھے اس کے باوجود انہوں نے تسلی بخش کارکردگی دکھائی‘
قومی جونیئر ہاکی ٹیم کے کوچ کامران اشرف آٹھ قومی ہاکی ٹورنامنٹ میں اپنے کھلاڑیوں کی کارکردگی سے مطمئن ہیں اور ان کا خیال ہے کہ یہ ٹیم جونیئر ایشیا کپ میں اچھے نتائج دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

پاکستانی جونئیر ٹیم نےملائشیا کے آٹھ قومی ہاکی ٹورنامنٹ میں پانچویں پوزیشن حاصل کی۔ اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کے علاوہ آسٹریلیا۔ ہالینڈ۔ جرمنی۔ جنوبی کوریا۔ بھارت۔ ملائشیا اور سنگاپور کی ٹیموں نے حصہ لیا۔

’حوصلہ افزا اعداد و شمار
 آسٹریلیا نے پندرہ پوائنٹس حاصل کرکے ٹورنامنٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ پاکستانی ٹیم کے گیارہ پوائنٹس تھے۔ آسٹریلیا نے سب سے زیادہ اکتیس گول کئے۔ پاکستان کے گول کی تعداد انتیس تھی۔ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ فیلڈگول پاکستانی ٹیم نے کئے جو اکیس تھے۔
کامران اشرف
کامران اشرف نے جو پاکستان کی طرف سے دو اولمپکس سمیت کئی بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیتے ہوئے سو سے زائد سے گول کرچکے ہیں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پانچویں پوزیشن کو کسی طور بھی اطمینان بخش کارکردگی نہیں کہا جاسکتا لیکن اعداوشمار اور دیگر حقائق کی بنیاد پر وہ ٹیم کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑی پہلی مرتبہ یورپی ٹیموں کے سامنے تھے اس کے باوجود انہوں نے تسلی بخش کارکردگی دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا نے پندرہ پوائنٹس حاصل کرکے ٹورنامنٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ پاکستانی ٹیم کے گیارہ پوائنٹس تھے۔ آسٹریلیا نے سب سے زیادہ اکتیس گول کئے۔ پاکستان کے گول کی تعداد انتیس تھی۔ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ فیلڈگول پاکستانی ٹیم نے کئے جو اکیس تھے۔

کامران اشرف نے کہا کہ اگر ان کے کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی میچز کھیلنے کا موقع ملے تو انہیں تجربہ حاصل ہوگا۔

اس سال حیدرآباد دکن میں ہونے والے جونیئر ایشیا کپ میں پاکستانی ٹیم کی متوقع کارکردگی کے بارے میں کامران اشرف کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے کھلاڑیوں سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستانی ٹیم فوری طور پر بھارت سے مکمل سیریز کھیلے کیونکہ ملائشیا کے ٹورنامنٹ میں بھارتی ٹیم صرف فائنل ہاری۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑی جب بھی بھارت سے کھیلتے ہیں ان پر غیرمعمولی دباؤ ہوتا ہے لہذا سیریز کھیلنے سے یہ دباؤ ختم ہوجائے گا اور وہ ایشیا کپ زیادہ اعتماد سے کھیل سکیں گے۔

کامران اشرف نے کہا کہ بھارت کے علاوہ کوریا سے سیریز بھی ضروری ہے کیونکہ ملائشیا میں کوریائی ٹیم کی کارکردگی اچھی نہیں رہی لیکن وہ ایشیا کپ میں خطرناک ٹیم ثابت ہوسکتی ہے۔

کامران اشرف نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ پاکستانی ٹیم میں زائد العمر کھلاڑی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ تمام تر دستاویزی ثبوت کے باوجود وہ یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ بھارتی ٹیم صحیح عمر کے ساتھ ٹورنامنٹ کھیلی کیونکہ بھارتی کھلاڑی مقررہ عمر کی حد سے زیادہ معلوم ہورہے تھے اور یہ چیز ان کے کھیل سے بھی عیاں تھی۔انہوں نے کہا کہ تمام ٹیمیں پاکستانی ٹیم سے بڑی لگ رہی تھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد