دوسرے ٹیسٹ میں ڈرا کا امکان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میتھیو ہیڈن اور مائیکل ہسی کی شاندار بیٹنگ کی بدولت آسٹریلیا نے ہندوستان کے خلاف دوسرے کرکٹ ٹیسٹ میچ میں چوتھے دن کا کھیل ختم ہونے تک دو سو تیرہ رن کی سبقت حاصل کر لی ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہےکہ ٹیسٹ میچوں میں میزبان ٹیم کی کامیابیوں کا حیرت انگیز سلسلہ جاری نہیں رہ سکے گا۔ آسٹریلیا نے لگاتار پندرہ ٹیسٹ جیتے ہیں لیکن اس میچ میں اب صرف ایک دن کا کھیل باقی ہے اور آسٹریلیا کو ابھی اپنی اننگز ڈکلیئر کرنے سے قبل اپنی شکست کا امکان ختم کرنا ہوگا۔ کھیل کے بعد ہیڈن نے کہا کہ’ ہم جیتنے کی بھر پور کوشش کریں گے، کوئی شبہہ نہیں کہ ہمارے پاس(جیت کا سلسلہ جاری رکھنے کا) موقع ہے۔ ’میرے خیال میں دو سو ساٹھ رن کافی ہوں گے۔‘ لیکن سورو گانگولی کہتے ہیں کہ وکٹ ابھی بھی اچھی ہے اور کوئی خطرے کی بات نظر نہیں آتی۔ ’آسٹریلیا کو ہمارے لیے کم سے کم تین سو رن کا ہدف قائم کرنا ہوگا‘۔ چوتھے دن کا کھیل ختم ہونے پر آسٹریلیا نے چار وکٹوں کے نقصان پر دو سو بیاسی رن بنائے تھے۔ ہیڈن 123 رن بناکر آؤٹ ہوئے جبکہ ہسی نے ستاسی رن بنائے ہیں۔ ہندوستان کے کپتان اور لیگ سپنر انیل کمبلے نے ایک سو دس رن دیکر تین وکٹ لیے ہیں اور کھیل کے آخری مراحل میں ہیٹ ٹرک کرنے سے بال بال چوک گئے۔ انہوں نے ہیڈن اور مائیکل کلارک کو لگاتار بالز پر آؤٹ کیا لیکن تیسری بال پر اینڈریو سائمنڈز کے خلاف ایل بی ڈبلو کی زوردار اپیل امپائر نے نامنظور کردی۔ بہر حال، اس مرحلے پر ایسا ہی لگتا ہے کہ یہ میچ ڈرا ہوجائے گا۔ اس سے قبل آسٹریلیا نے 2001 میں سٹیو وا کی کپتانی میں لگاتار سولہ میچ جیتے کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ |
اسی بارے میں امپائروں کے فیصلوں کے خلاف اپیل04 January, 2008 | کھیل ہربھجن کے خلاف ’کارروائی‘ ملتوی05 January, 2008 | کھیل شعیب: آسٹریلوی کرکٹرز سے رابطہ01 January, 2008 | کھیل ’آسٹریلیا کا دورہ معول کے مطابق‘31 December, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||