امپائروں کے فیصلوں کے خلاف اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرکٹ کا بین الاقوامی نگراں ادارہ آئی سی سی کھلاڑیوں کو امپائروں کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق دینے پر غور کر رہا ہے۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو میلکم سپیڈ نے جمعہ کو کہا ہے کہ وہ تجرباتی طور پر کھلاڑیوں کو یہ حق دینا چاہتے ہیں جس کے تحت امپائروں کے متنازعہ فیصلوں کے خلاف اپیل کی جاسکے گی اور حتمی فیصلہ تسرے امپائر پر چھوڑا جائے گا جسے ٹی وی پر ری پلے دیکھنے کی سہولت حاصل ہوگی۔ مسٹر سپیڈ نےکہا کہ یہ طریقہ کار ٹینس میں استعمال کیا جارہا ہے۔ نئے منصوبے کا مقصد میدان پر موجود امپائروں کی زندگی تھوڑی آسان بنانا ہے جو بہت دباؤ میں اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ میلکم سپیڈ نے ایک آسٹریلوی ٹی وی چینل کو بتایا کہ وہ پہلے کسی ون ڈے ٹورنامنٹ میں یہ تجربہ کرنا چاہتے ہیں اور اس کے بعد آئی سی سی کے رکن ممالک یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا اس منصوبے کو ٹیسٹ میچوں میں بھی اختیار کیا جائے یانہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چیمپیئنز ٹرافی ٹورنامنٹ ہونے والا ہے جو اس نئے قانون کو آزمانے کا بہترین موقع ہوگا کیونکہ وہاں دنیا کے بہترین امپائر اور جدید ترین ٹیکنالوجی، دونوں موجود ہوں گے۔ میلکم سپیڈ کے مطابق آئی سی سی کرکٹ میں جدید ٹیکنالوجی کےاستعمال پر کافی عرصے سے غور کر رہی ہے لیکن ابھی تک کوئی ایسا منصوبہ وضع نہیں کیا جاسکا جس پر سب متفق ہوں۔ کرکٹ کی اہم ترین روایتوں میں سے ایک یہ ہے کہ امپائر کےفیصلہ پر سوال نہ اٹھایا جائے لیکن میلکم سپیڈ کے مطابق ’ ہمیں کرکٹ کی روایتوں کا احترام کرنا ہے۔۔۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ ایک نئی تبدیلی ہونے والی ہو اور اس تجربے کو رکن ممالک کی حمایت حاصل ہو جائے۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئی سی سی کی کوشش ہوگی کہ امپائروں کی اہمیت کسی طرح کم نہ ہو اور کھلاڑیوں کی جانب سے اپیلوں کی ایک حد مقرر کی جائے تاکہ کھیل میں بار بار رخنہ نہ پڑے۔ |
اسی بارے میں نسل پرستانہ جملوں پر وضاحت طلبی14 October, 2007 | کھیل کرکٹ،سفید کے بعدگلابی گیند13 November, 2007 | کھیل ’انڈین لیگ کے حامی نہیں‘28 August, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||