پاکستان ڈھیر، جیتا ہوا میچ ہارگئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افریقہ نے پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کے فیصلہ کن میچ میں پاکستان کو چودہ رن سے شکست دے کر سیریز تین، دو سے جیت لی ہے۔ جنوبی افریقہ نے پاکستان کو فتح کے لیے دو سو چونتیس رن کا ہدف فراہم کیا تھا جس کے جواب میں پاکستانی ٹیم سنتالیسویں اوور میں دو سو انیس رن بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ پاکستان کی آخری چھ کھلاڑی مجموعی سکور میں صرف بیس رن کا اضافہ کر سکے۔ پاکستان کے آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی شعیب اختر تھے جو مورکل کا چوتھا شکار بنے۔ جنوبی افریقہ کی جانب سے مورکل اور نتنی نے چار،چار جبکہ ڈومنی اور پولاک نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔ لاہور میں کھیلے جانے والے میچ میں پاکستانی اوپنر ایک مرتبہ پھر مضبوط آغاز فراہم کرنے میں ناکام رہے اور پہلی وکٹ چوتھے اوور میں بائیس کے مجموعی سکور پر گری جب عمران نذیر سترہ رن بنا کر نتنی کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔ دوسرے اوپنر کامران اکمل چوبیس رن بنا سکے۔ انہیں بھی نتنی نے بولڈ کیا۔ تاہم اس کے بعد یونس خان اور محمد یوسف کے درمیان ایک سو چھ رن کی پارٹنر شپ ہوئی۔پاکستان کے آؤٹ ہونے والے تیسرے کھلاڑی یونس خان تھے جو اٹھاون رن بنا کر شان پولاک کی گیند پر مورکل کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔محمد یوسف نے ترپّن رن بنائے، انہیں ڈومنی کی گیند پر باؤچر نے کیچ کیا۔ شعیب ملک اور مصباح الحق کے درمیان پانچویں وکٹ کے لیے انتالیس رن کی شراکت ہوئی جس کے بعد شعیب ملک تیئیس کے انفرادی سکور پر مورکل کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ مصباح الحق انیس رن بنا کر نتنی کا تیسرا شکار بنے۔سہیل تنویر کوئی رن نہ بنا سکے اور پہلی ہی گیند پر مورکل کا دوسرا شکار بنے۔ راؤ افتخار انجم پہلی ہی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ ہوگئے جبکہ شاہد آفریدی نو رن بنا کر نتنی کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ اس سے قبل جنوبی افریقہ کے کپتان گریم سمتھ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور جنوبی افریقہ نے مقررہ پچاس اوور میں نو وکٹ کے نقصان پر 233 رن بنائے۔
جنوبی افریقہ کی جانب سے ژاک کیلس چھیاسی رن بنا کر ٹاپ سکورر رہے۔ کیلس کے علاوہ ہرشل گبز نے بھی نصف سنچری سکور کی۔ انہوں نے دس چوکوں کی مدد سے چوّن رن بنائے۔ اس سے قبل ہرشل گبز اور گریم سمتھ نے اننگر کا آغاز کیا تاہم سمتھ پہلے ہی اوور کی تیسری گیند پر بغیر کوئی رن بنائے بولڈ ہوگئے۔انہیں شعیب اختر نے آؤٹ کیا۔ سمتھ کے بعدگبز اور کیلس نے ٹیم کو سنبھالا دیا اور سکور ستاسی رن تک پہنچا دیا۔ اس موقع پرگبز دس چوکوں کی مدد سے اکسٹھ گیندوں پر چون رن بنا کر راؤ افتخار انجم کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ہرشل گبز کی جگہ ابراہم ڈیویلیئرز کھیلنے آئے تاہم وہ زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور سترہ رن بنا کر شعیب ملک کی گیند پر عمران نذیر کی گیند پر کیچ ہوگئے۔ بعد میں آنے والے کھلاڑیوں میں جین پال ڈومنی کے سوا کوئی بھی جنوبی افریقی کھلاڑی قابلِ ذکر سکور نہیں کر سکا۔ ڈومنی چوالیس رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ پاکستان کی جانب سے تیرہ میچوں کی پابندی کے بعد اپنا پہلا میچ کھیلنے والے فاسٹ بالر شعیب اختر سب سے کامیاب بالر رہے۔ انہوں نے تنتالیس رنز کے عوض چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ شعیب کے علاوہ افتخار انجم نے تین جبکہ شعیب ملک اور سہیل تنویر نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔
مکھایا نتنی کو شاندار بالنگ کے سبب مین آف دی میچ کا ایوارڈ ملا جبکہ مین آف دی سیریز کا ایوارڈ محمد یوسف کو تین نصف سنچریاں اور ایک سنچری بنانے پر دیا گیا۔ جنوبی افریقہ نے اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے پاکستان سے ایک بار پھر ایک روزہ سیریز جیتی ہے۔ اس سے پہلے جنوبی افریقہ اور پاکستان کے درمیان تین دو طرفہ ون ڈے سیریز کھیلی گئیں جو جنوبی افریقہ نے ہی جیتی ہیں۔ پاکستان نے اس میچ کے لیے ٹیم میں تین تبدیلیاں کیں۔ شعیب اختر کو اس میچ میں عمر گل کی جگہ کھلایا گیا جبکہ محمد آصف کی جگہ سہیل تنویر کو اور یاسر حمید کی جگہ عمران نذیر کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ پاکستانی ٹیم: کامران اکمل، یونس خان، محمد یوسف، مصباح الحق، شعیب ملک، عبدالرحمن، شعیب اختر، عمران نذیر، شاہد آفریدی، راؤ افتخار اور سہیل تنویر۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم: گریم سمتھ، ہرشل گبز، اے بی ڈویلئیر، ژاک کیلس، مارک باؤچر، شان پولاک، مکھایا نتنی، ایلبی مورکل، یوہان بوتھا، جین پال ڈومنی، آندرے نیل۔ | اسی بارے میں لاہور ون ڈے کافی اہم: کپتان 28 October, 2007 | کھیل ملتان: پاکستان ہار گیا، سیریز دو دو26 October, 2007 | کھیل پاکستان تیسرا ون ڈے جیت گیا23 October, 2007 | کھیل پاکستان، جنوبی افریقہ سیریز برابر 20 October, 2007 | کھیل لاہور میں پاکستان کی شکست18 October, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||