لاہور ون ڈے کافی اہم: کپتان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کپتان شعیب ملک کا کہنا ہے کہ پیر کے روز لاہور میں ہونے والا پانچواں میچ جیتنا ان کے لیے کافی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ سیریز جیتنے سے ان کی ٹیم کے اعتماد میں جو اضافہ ہوگا وہ دورۂ بھارت کے لیے ٹیم کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ شعیب ملک نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم کبھی جنوبی افریقہ کے خلاف ایک روزہ میچز کی سیریز نہیں جیتی اور یہ ہماری ٹیم کے لیے ایک اچھا موقع ہے کہ ہم یہ سیریز جیت کر ایک نئی تاریخ رقم کریں۔ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان پانچ ایک روزہ سیریز کا آخری میچ پیر کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔ ابھی تک دونوں ٹیمیں دو دو میچ جیت چکی ہیں اس لیے یہ میچ کافی اہم ہے کیونکہ اسے جیتنے والی ٹیم سیریز کی بھی فاتح ہوگی۔ سیریز کا یہ آخری میچ کراچی میں ہونا تھا لیکن کراچی میں بے نظیر بھٹو کے خیرمقدمی جلوس میں ہونے والے بم دھماکوں کے سبب جنوبی افریقہ نے سکیورٹی کے خدشات کے تحت یہ میچ لاہور کروانے کے لیے کہا۔ اتوار کو لاہور میں پریکٹس کے بعد دونوں کے کپتانوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ شعیب ملک کی طرح جنوبی افریقہ کے کپتان گریم سمتھ نے بھی سیریز جیتنے کے عزم کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم جیتنے کے لیے پراعتماد ہے لیکن لاہور کی وکٹ مکمل طور پر تیار نہیں اور جو ٹیم اس وکٹ پر حالات پر قابو لے گی وہی کل کا میچ جیتے گی۔ گریم سمتھ نے لاہور کی وکٹ پر تنقید کی اور کہا کہ یہ وکٹ کچھ سلو ہوگی اور لگتا ہے کہ یہ پوری طرح تیار نہیں کی گئی اور دونوں ٹیموں کو اس سے مطابقت پیدا کرنے میں مشکل ہوگی۔ انہوں نے مزید کیا کہ وہ اس سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیارکر لیں گے۔ پاکستان کی ٹیم کے کپتان شعیب ملک نے گریم سمتھ کی اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وکٹ مکمل تیار ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہوم ٹیم کو وکٹ سے فائدہ ہوتا ہے لیکن ایسا نہیں کہ اس وکٹ کو مکمل تیار نہیں کیا گیا۔ شعیب ملک نے کہا کہ شعیب اختر کی ٹیم میں واپسی خوش آئند ہے اور اس سے بالرز میں مقابلہ بڑھے گا اور جتنے زیادہ اچھے بالرز یا بیٹسمین ہوں گے مقابلہ بڑھنے سے کارکردگی بہتر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ شعیب اختر اور وہ 1997 سے اکٹھے ٹیم میں کھیل رہے ہیں۔ انہیں ان سے کبھی کوئی پریشانی نہیں ہوئی وہ بہت اچھے ہیں اور ان سے آرام سے بات کی جائے تو وہ بہت اچھی طرح جواب دیتے ہیں۔ شعیب اختر کی پاکستان کی ٹیم میں واپسی پر گریم سمتھ کا کہنا تھا کہ اس کا فرق پاکستان کی ٹیم پر ہوگا ہم پر نہیں۔ سمتھ نے کہا کہ یقینا شعیب اختر قابل کھلاڑی ہیں لیکن ہم نے ان سے نمٹنے کے لیے تیاری کر رکھی ہے۔ان کا آنا ہمارے لیے حیران کن نہیں کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ وہ آخری میچ کے لیے دستیاب ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ شعیب اخترکافی عرصے کے بعد کوئی میچ کھیل رہے ہیں اور ان کو ٹیم میں رکھنا کچھ رسکی ہے دیکھیں کہ کل کیا ہوتا ہے۔ پاکستان کی ٹیم کے کپتان شعیب ملک نے کہا کہ کراچی پاکستان کا شہر ہے اور ہم وہاں کھیلنا چاہتے ہیں لیکن اس صورتحال میں کہ جب جنوبی افریقہ کی ٹیم وہاں سکیورٹی خدشات کے سبب نہیں کھیلنا چاہتی تھی اس میچ کو وہاں سے منتقل کرنا پاکستان کی حکومت اور کرکٹ بورڈ کا ایک اچھا فیصلہ ہے۔ شعیب ملک نے کہا کہ وہ ہر حال میں یہ میچ جیت کر سیریز جیتنا چاہتے ہیں چاہے وہ ٹاس جیتیں یا ہاریں۔ انہوں نے بتایا کہ کل کے میچ میں ایک اوپنر کامران اکمل ہیں اور دوسرا باقائدہ اوپنر ہوگا۔ شعیب ملک نے کہا کہ اننگز اوپن کرنے کے لیے انہیں کامران اکمل پر اعتماد ہے اور دورۂ بھارت میں بھی ان سے اننگز اوپن کروائی جائے گی۔ ادھر گریم سمتھ کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم میں کل کے لیے کسی تبدیلی کی متوقع نہیں۔ | اسی بارے میں شعیب پاکستانی سکواڈ میں واپس27 October, 2007 | کھیل پاکستان تیسرا ون ڈے جیت گیا23 October, 2007 | کھیل کراچی ون ڈے ، فیصلہ کل ہوگا23 October, 2007 | کھیل کراچی نہیں کھیلیں گے: جنوبی افریقہ24 October, 2007 | کھیل ملتان: پاکستان ہار گیا، سیریز دو دو26 October, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||