’آفریدی کا بیٹنگ آرڈر حیران کن‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کے کپتان گریم سمتھ نے پہلا ون ڈے جیتنے کے بعد کہا ہے کہ شاہد آفریدی کی دھواں دار بیٹنگ کے دوران وہ پریشان نہیں ہوئے کیونکہ میچ تب بھی ان کی گرفت میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ آفریدی کو آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کے لیے بھیجے جانے پر انہیں حیرت ہوئی۔ سمتھ نے کہا کہ آفریدی ایک خطرناک کھلاڑی ہے لیکن جس وقت وہ کھیلنے کے لیے آیا تو سات کھلای آؤٹ ہو چکے تھے اور میچ پاکستان کے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شاہد آفریدی نے اچھی بیٹنگ کی لیکن میچ کا نوے فیصد حصہ ہمارے کنٹرول میں رہا۔ انہوں نے کہا کہ اس وکٹ پر 294 رنز کا سکور ایک کافی اچھا سکور تھا۔اور وہ اپنی ٹیم کی کارکردگی پر بہت خوش ہیں لیکن کچھ باتوں پر غور کرنا ضروری ہے جس پر ہم کام کریں گے۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے سٹرائیک بالر مکھایا نتینی کی تعریف کی۔ مکھایا نتینی نے پاکستان کے چار اہم بیٹسمینوں کو آؤٹ کیا۔ سمتھ نے کہا کہ نتینی نے ہمیشہ اچھی بالنگ کی ہے اور اس فتح میں اس کا کافی کردار ہے۔ انہوں نے سنچری بنانے والے دونوں بیٹسمینوں کو خوب سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ مڈل آرڈر کی شراکت داری ایک بڑے سکور کے لیے بہت ضروری ہے اور اس وکٹ پر اتنی اچھی بیٹنگ کرنا آسان کام نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ٹیم کی کارکردگی سے بہت خوش ہیں اور ہفتے کے روز ہونے والے دوسرے ایک روزہ میچ کے لیے ٹیم میں کسی تبدیلی کے بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتے اور جمعہ کو وکٹ دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔
پاکستانی ٹیم کے کپتان شعیب ملک نے ہارنے کے باوجود اپنی ٹیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم نے اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا اور انہوں نے میدان میں جان لڑائی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس میچ میں ان کی ٹیم کی فیلڈنگ بھی کافی بہتر تھی۔ انہوں نے کہا کہ شروع میں چار کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے کے سبب ان کی ٹیم دباؤ میں آ گئی۔ انہوں نے اپنا مؤقف دہرایا کہ ان کی ٹیم کے ہارنے کی وجہ یہ کہ ان کی ٹیم کافی دیر بعد ایک روزہ میچ کھیل رہی ہے۔ سلمان بٹ کو اس میچ میں نہ کھلانے کی وجہ شعیب ملک نے یہ بتائی کہ ٹیم کو چھ بالرز کی ضرورت تھی اس لیےانہیں اس میچ میں نہیں کھلایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم کی کارکردگی دن بدن بہتر ہو رہی ہے اور’آؤٹ ہونا کھیل کا حصہ ہے لیکن سب نے محنت کی‘۔ شعیب ملک نے کہا کہ ہارنے سے مایوسی تو ہوتی ہے لیکن مایوسی کو خود پر طاری نہیں کرنا چاہیے اور ’ہم ایک نئے جذبے کے ساتھ اگلے میچ میں کھیلیں گے‘۔ | اسی بارے میں ’شکست سے بہت کچھ سیکھا‘ 17 October, 2007 | کھیل نسلی تعصب، شائقین کو وارننگ17 October, 2007 | کھیل ایک روزہ میچوں کے لیے ٹیم کا اعلان13 October, 2007 | کھیل نسل پرستانہ جملوں پر وضاحت طلبی14 October, 2007 | کھیل انضمام میانداد کا ریکارڈ نہ توڑ سکے12 October, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||