آسٹریلیا نےحیدرآباد کامیچ جیت لیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان حیدرآباد میں کھیلا گيا تیسرا یک روزہ میچ آسٹریلیا نے سینتالیس رنز سے جیت لیا ہے۔سات میچوں کی سیریز میں آسٹریلیا کو دو صفر کی سبقت حاصل ہوگئی ہے۔ پہلا میچ بارش کی نذر ہوگیا تھا۔ آسٹریلیا کے دو سو نوّے رن کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش میں ہندوستان کی پوری ٹیم سینتالیس اعشاریہ چار اووروں میں دو سو تینتالیس رن بناکر آؤٹ ہو گئی۔ بریٹ لی اور ہاگ نے شاندار گیند بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین تین وکٹیں حاصل کیں۔ ہندوستان کی شروعات اچھی نہیں تھی اور پانچ اوروں میں ہی تیرہ رنز پر اس کے تین بلے باز پویلین واپس جاچکے تھے۔ گوتم گمبھیر نے چھ رن اور اتھاپہ اور راہل دراوڈ بغیر کوئی رن بنائے ہی آؤٹ ہوگئے۔ اس کے بعد سچن تندولکر اور یوراج سنگھ کے درمیان اچھی شراکت ہوئی جو تندولکر کے تینتالیس کے سکور پر ہوگ کے ہاتھوں بولڈ ہونے پر ختم ہوئی۔ کپتان مہندر سنگھ دھونی تینتیس رن بنا کر بریٹ لی کا شکار بنے۔ لیکن دوسری طرف سے یوراج سنگھ کا بلا بولتا رہا۔ یوراج نے بارہ چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے شاندار سنچری مکمل کی لیکن ایک سو اکیس کے سکور پر ان کے آؤٹ ہوتے ہی ہندوستان کی امیدیں بھی ختم ہوگئیں۔ اس سے قبل آسٹریلیانے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور اوپنر ایڈم گلکرسٹ اور میتیھو ہیڈن نے اننگز کی اچھی شروعات کی۔ ابتدائی تیرہ اوورز میں دونوں کھلاڑیوں نے 76 رنز سکور کیے۔ چودھویں اوور میں گلکرسٹ عرفان پٹھان کی گینڈ پر بولڈ ہوگئے۔ انہوں نے انتیس رن کی باری میں تین چوکے لگائے۔ اکیسویں اوور میں پٹھان ہی نے ہیڈن کو پویلین واپس بھیج دیا۔ ہیڈین نے ساٹھ رنز کی باری میں دس چوکے لگائے۔ بعد میں اینڈریو سائمنڈ اور کلارک کے درمیان ایک سو تئیس رن کی شاندار شراکت ہوئی۔ کلارک نے انسٹھ رنز بنائے اور سائمنڈ نے صرف سرسٹھ گیندوں پر نواسی رن کی باری کھیلی جس میں انہوں نے پانچ چوکے اور پانچ چھکے لگائے۔ شاندار بیٹنگ کے لیے انہیں مین آف دی میچ کے انعام سے نوازا گيا۔ ہندوستان کی طرف سے ظہیر خان، سری سنتھ اور عرفان پٹھان نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔ اس جیت سے ایک روزہ میچوں کی سیریز میں آسٹریلیا کو دو صفر کی سبقت حاصل ہوگئی ہے۔ پہلے میچ میں بھی آسٹریلیا نے تین سو سات رنز سکور کیے تھے لیکن بارش کے سبب ہندوستان بیٹنگ نہیں کر سکا تھا۔ اگلا میچ آٹھ تاریخ کو موہالی میں کھیلا جائےگا۔ انڈیا نے ٹوئنٹی ٹوئنٹی عالمی کپ کے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کو ہرایا تھا۔ انیس سو تراسی میں ہندوستان عالمی چمیئن بنا تھا لیکن اس کے فوراً بعد ویسٹ انڈیز کی ٹیم ہندوستان کے دورے پر آئی تھی اور اس نے ایک روزہ میچوں میں پانچ صفر اور ٹیسٹ میچوں میں تین صفر سے کامیابی حاصل کی تھی۔ کرکٹ کے بعض تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ کہیں تاریخ اپنے آپ کو دوہرا تو نہیں رہی ہے۔ | اسی بارے میں ہیڈنگلے میں فتح، انڈیا کی امید باقی02 September, 2007 | کھیل کوچی کا میدان آسٹریلیا نے مار لیا02 October, 2007 | کھیل ’اکڑ دکھانے سے بہتر ہے کہ کارکردگی دکھائیں‘03 October, 2007 | کھیل راہول ڈراوِڈ کپتانی سے مستعفی14 September, 2007 | کھیل دھونی انڈین ٹیم کے نئے کپتان18 September, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||