’اکڑ دکھانے سے بہتر ہے کہ کارکردگی دکھائیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سانتھا کمارن سریسانتھ اکیلے ہی وہ کر رہا ہے جو بہت سے لوگوں کے خیال میں ممکن ہی نہیں۔ وہ ہے آسٹریلوی کرکٹ ٹیم پر زبانی کلامی حملے۔ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے رکن ایڈم گلکرسٹ نے منگل کو کہا کہ سریسانتھ کا رویہ ان کے بیٹے سے بھی زیادہ بچگانہ ہے اور ان کے اس بیان سے اختلاف کرنا واقعی مشکل دکھائی دیتا ہے۔ گزشتہ ہفتے اینڈیو سمنڈز نے کہا تھا کہ بھارتی ٹیم پر ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی فتح کا نشہ اب تک طاری ہے( یہ صحیح ہے لیکن ایک ایسے ملک میں جسے فتح کا مزہ کم ہی چکھنے کو ملا ہو یہ بات سمجھ میں آتی ہے) لیکن سمنڈز کا یہ کہنا کہ آسٹریلوی کھلاڑی فتح کوعاجزی سے قبول کرتے ہیں لوگوں کو ناراض کرنے کا باعث بنا۔ یہ کچھ عجیب تھا کہ ایک آسٹریلوی کرکٹر ایک بھارتی کو تہذیب سکھائے۔ ادھر جمعرات کو ایک بار پھر سریسانتھ کا رویہ، سمندڈز کا رن آؤٹ اور انہیں آؤٹ کرنے کے بعد سریسانتھ کا سمنڈز کے منہ پر چّلانا اتنا بے سروپا تھا کہ اب بھارتی بھی کسی کو تہذیب کی تعلیم دینے کے قابل نظر نہیں آتے۔ ممکن ہے کہ سریسانتھ ایک اچھے بالر ہوں لیکن یہاں وہ کرکٹ کی روح کو تباہ کرنے کی کوشش میں دکھائی دیتے ہیں۔ بعض اوقات سریسانتھ کا رویہ مزاحیہ لگتا ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کھیل میں ایسے کرداروں کی ضرورت رہتی ہے جو کسی حد تک غیر روایتی ہوں۔ لیکن مزاحیہ اور بچگانہ رویے میں بہت باریک فرق ہوتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ سریسانتھ وہ فرق نہیں سمجھتے۔ مہندر سنگھ دھونی کو چاہیے کہ وہ انہیں بتائیں کہ ایک کھلاڑی کو ٹیم کی ساکھ تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ماضی میں بھارتی ٹیم نے بے مثال رویے کا مظاہرہ کیا ہے اور حالیہ کچھ برسوں میں یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ بھارتی ٹیم کے کھلاڑیوں کو ذرا جارحانہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ سورو گنگولی نے بھی اپنے زمانے میں ٹیم کو یہ بات باور کروانے کی کوشش کی لیکن ان کی ٹیم کے کھلاڑی اکھّڑ بننےکو تیار نہ تھے۔ 2001 میں آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز کے دوران بھارتی ٹیم سخت جان اور کسی بات پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہ تھی لیکن ان کا رویہ کسی طرح بھی قابلِ اعتراض نہ تھا۔یہ ایک ایسی ٹیم تھی جس کے لکشمن، تندولکر اور ڈراوڈ جیسے جارحانہ کھلاڑی سب سے کم گو اور قابلِ عزت تھے۔ دھونی کی نئی بھارتی ٹیم کو ایک مضبوط اور شاندار ٹیم کہا جا رہا ہے اور یہ بات بھی صحیح ہے کہ ایک نوجوان قوم کو اپنے جذبات کا اظہار کرنے کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔ چناچہ وکٹوں کے حصول کے بعد خوشی کے اظہار، بالروں کو تھپکیاں دینے، اور مخالف ٹیم کو نروِس کر دینے والے جوش کے اظہار تک تو بات ٹھیک ہے لیکن سخت رویے اور دباؤ میں نہ آنے کا مطلب کہیں بھی یہ نہیں کہ مخالف ٹیم کے کھلاڑی کے منہ پر چّلایا جائے یا ان کی جانب بّلے سے اشارے کیے جائیں۔ اگر یہ آسٹریلیا کے اعتماد میں دراڑ ڈالنے کی کوشش ہے تو انتہائی بودی کوشش ہے۔ بھارتی ٹیم صرف جارحانہ رویہ دکھا کر نہیں بلکہ جارحانہ انداز سے کھیل کر ہی آسٹریلوی ٹیم کو شکست دے سکتی ہے، ڈرا سکتی ہے یا پھر متاثر کر سکتی ہے۔ انہیں سخت کلامی، ان کی جانب جارحانہ انداز سے بڑھنے یا کندھا مارنے سے نہیں بلکہ اچھی لائن پر گیند کر کے، لگاتار سنگل لے کر یا اچھی فیلڈنگ کر کے ہی متاثر کیا جا سکتا ہے۔ سریسانتھ کو جتنی بار میچ ریفری بلائے گا اتنا ہی یہ معاملہ ذرائع ابلاغ میں اچھالا جائےگا اور اتنا ہی بھارتی ٹیم اور اس کا کپتان اپنے مقصد سے دور ہوتے جائیں گے۔ اگر سریسانتھ کو اکڑ دکھانے کا شوق ہے تو انہیں یہ حق اپنی کارکردگی کی بدولت حاصل کرنا ہوگا۔ انہیں یہ بات یاد رکھنا ہو گی کہ انہیں بھارتی ٹیم میں ان کی بولنگ نے جگہ دلوائی تھی نہ کہ ان کی اداکاری کی صلاحیت نے۔ | اسی بارے میں کوچی کا میدان آسٹریلیا نے مار لیا02 October, 2007 | کھیل سیمی فائنل: انڈیا بمقابلہ آسٹریلیا 20 September, 2007 | کھیل انڈیا اور پاکستان فائنل میں 22 September, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||