کوچی کا میدان آسٹریلیا نے مار لیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان کوچی میں کھیلا گیا دوسرا ایک روزہ میچ آسٹریلیا نے چوراسی رنز سے جیت لیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سات ایک روزہ میچوں کی سیریز میں آسٹریلیا کو ایک صفر کی برتری حاصل ہوگئی ہے۔ پہلا میچ بارش کے سبب کالعدم قرار دیدیا گیا تھا۔ جنوبی ریاست کیرالا کے شہر کوچی کے نہرو سٹیڈیم میں بھارت نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت دی۔ مہمان ٹیم نے مقررہ پچاس اورز میں چھ وکٹ کے نقصان پر تین سو چھ رنز بنائے۔ جواب میں بھارت صرف دو سو بائیس رن ہی بنا سکا اور سینتالیس اوورز اور تین گیندوں پر ہی اس کی پوری ٹیم پویلین واپس جا چکی تھی۔ جیت کے لیے تین سو سات رنز کا تعاقب کرتے ہوئے بھارت نے زوردار شروعات کی لیکن وقفے وقفے سے اس کی وکٹیں گرتی گئیں۔ صرف کپتان مہندر سنگھ دھونی ہی نصف سنچری بنانے میں کامیاب ہوئے اور انہوں نے اٹھاسی گیندوں پر اٹھاون رنز سکور کیے۔
رابن اتھاپہ نے تیس بالوں میں اکتالیس رنز بنائے اور راہول ڈراوڈ نے اکتیس رنز سکور کیے۔ باقی سبھی بلے باز آسٹریلوی گیند بازوں کے سامنے بے بس نظر آ ئے۔ بریڈ ہاگ نے تین وکٹیں لیں جبکہ سٹورٹ اور مائیکل کلارک نے دو دو حاصل کیں۔ آسٹریلیا کی اننگز کا آغاز بہت خراب ہوا اور پہلے ہی اوور میں ظہیر خان نے کپتان ایڈم گلکرسٹ کو پویلین واپس بھیج دیا تھا۔ دونوں اوپنر کے آؤٹ ہونے پر آسٹریلیا کے رنز بنانے کی رفتار سست ہوگئی لیکن کلارک اور ہیڈین نے اننگز کو سنبھالا دیا۔ میتھیو ہیڈین پچھتر رنز بناکر عرفان پٹھان کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ اس کے بعد اینڈریو سائمنڈز نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے تراسی گیندوں پر ستاسی رنز سکور کیے۔ انہوں نے نو چوکے اور دو چھکے لگائے۔ براڈ ہڈن نے آٹھ چوکوں اور تین زور دار چھکوں کی مدد سے انہتر بالوں پر ستاسی رنز بنائے اور وہ آخر تک آؤٹ نہیں ہوئے۔ انہیں میج آف دی میچ کا اعزاز دیا گیا۔ سات میچوں کی سیریز میں آسٹریلیا کو ایک صفر کی برتری حاصل ہوگئی ہے۔ دونوں کے درمیان پہلا میچ بنگلور میں بارش کے نذر ہوگیا تھا۔ آسٹریلیا ونڈے کا عالمی چمپیئن ہے اور بھارت نے حال ہی میں ٹونیٹی 20 کپ جیتا ہے۔ اس سیریز کی شروعات سے ہی نفسیاتی دباؤ کے لیے دونوں ٹیموں کی طرف سے بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے۔ اب سبھی کی اس بات پر نظریں لگی ہیں کہ اس سیریز میں آسٹریلیا کاتجربہ کام آتا ہے یا پھر بھارت کا نیا نیا جوش۔ | اسی بارے میں رانچی کو دھونی کا انتظار28 September, 2007 | کھیل کرکٹ کا جشن، ہاکی کھلاڑی ناراض26 September, 2007 | کھیل میچ کے دباؤ میں نہیں آئے: دھونی24 September, 2007 | کھیل جھارکھنڈ رتن :ڈی ایس پی دھونی24 September, 2007 | کھیل محنت کام آ رہی ہے: عرفان پٹھان24 September, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||