پاکستان پریمئر لیگ کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ نے انڈین پریمئر لیگ کی طرز پر سنہ 2008 میں پاکستان پریمئر لیگ کروانے کا اعلان کیا ہے۔ تمام کرکٹ بورڈ کے سربراہوں کے بھارت میں ہونے والےاجلاس میں شرکت کرنے کے بعد پاکستان آ کر پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کی طرح پاکستان کرکٹ بورڈ بھی پریمئر لیگ کا انعقاد کرے گا۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہ نے 14 ستمبر کو انڈین پریمئر لیگ کروانے کا اعلان کیا تھا اور ٹھیک ایک دن بعد پی سی بی کے چئرمین نے بھی ایسی ہی ایک لیگ پاکستان میں کروانے کا اعلان کیا۔ پی سی بی کے چئرمین نے کہا کہ پی سی بی بڑے اداروں، کمپنیوں حتٰی کہ تاجروں کو فرنچائز کرکٹ ٹیمیں بنانے کی دعوت دے گا۔ یہ ادارے یہ فرنچائز ٹیمیں بنانے کے لیے پی سی بی کو فیس بھی دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود یہ فرنچائز ٹیمیں پی سی بی کے بتائے گئے طریقہ کار کے مطابق بنائی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ طریقہ کار یہ ہوگا کہ ہر ٹیم میں چار انڈر 21 کھلاڑی ہونے ضروری ہیں تاکہ ان نوجوان کھلاڑیوں کو بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کا موقع مل سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہرٹیم میں اس علاقے کے چار کھلاڑی ہوں گے جہاں یہ ادارہ ٹیم بنائے گا۔ جبکہ باقی چار کھلاڑی انٹرنیشنل ہوں گے اور یہ کسی بھی ملک کے ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر فرنچائز ٹیم بڑے کھلاڑی کو لینے کے لیے اس کی بولی دے گی، اس طرح کھلاڑی کو زیادہ سے زیادہ آمدنی ہو سکے گی۔
پی سی بی کے چئرمین نے کہا کہ اس طرح کی کرکٹ سے کھلاڑیوں کو بہت زیادہ مالی فائدہ ہوگا۔ چیئرمین نے کہا کہ آئی سی سی نے 20 ٹونٹی چمپئنز لیگ کروانے کا جو اعلان کیا ہے اس میں دوسرے ممالک کی طرح پاکستان سے بھی دو ٹاپ ٹیمیں شرکت کریں گی۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے انڈین کرکٹ لیگ سے پریمئر لیگ کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ انڈین کرکٹ لیگ کے معاہدے میں ایک شق یہ ہے کہ اگر کسی کھلاڑی کے اپنے ملک کا بین الاقوامی شیڈیول اور آئی سی ایل کا شیڈیول متصادم ہوئے تو کھلاڑی آئی سی ایل کھیلے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے وہ انڈین کرکٹ لیگ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ انڈین کرکٹ لیگ کھیلنےکے لیے معاہدوں پر دستخط کرنے والے تمام کھلاڑیوں کے لیے واپسی کے دروازے کھلے ہیں اور وہ فوری طورپر اپنا معاہدہ ختم کر دیں تو واپس آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ رعایت محمد یوسف اورعمران فرحت سمیت تمام کھلاڑیوں کے لیے ہے۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے اعلان کیا کہ جب محمد یوسف اپنے تبلیغی چلے سے واپس آئیں گے تو آئی سی سی کا ٹیسٹ کرکٹ آف دی ایئر کا ایوارڈ حاصل کرنے والے اس کھلاڑی کے اعزاز میں پی سی بی شاندار تقریب کا انعقاد کرے گا جس میں انہیں انعامات دیے جاییں گے۔ | اسی بارے میں آصف کو دس کروڑ کی پیشکش19 August, 2007 | کھیل انضمام، یوسف انڈین لیگ میں20 August, 2007 | کھیل ’وقت ملا تو انڈین لیگ کھیلوں گا‘31 August, 2007 | کھیل یوسف کو منانے کی کوششیں تیز30 August, 2007 | کھیل ’انڈین لیگ کے حامی نہیں‘28 August, 2007 | کھیل ملک کے لیے کھیلنا چاہتا ہوں: یونس25 August, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||