’سینٹرل کانٹریکٹ سے آزاد کرو‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ستائیس ٹیسٹ میچز اور تینتیس ایک روزہ میچز میں پاکستان کے اوپنگ بیٹس مین عمران فرحت نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو نوٹس بجھجوایا ہے کہ انہیں سنٹرل کانٹریکٹ سےآزاد کر دیا جائے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئےعمران فرحت نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ موجودہ سلیکشن کمیٹی کے رویے پر بطور احتجاج کیا ہے۔ عمران فرحت جنہیں پاکستان کرکٹ بورڈ نے سنٹرل کانٹریکٹ کی سی کیٹگری کا کانٹریکٹ دیا تھا جس پر عمران فرحت دستخط بھی کر چکے ہیں لیکن دستخط کرنے کے بعد انہوں نے احتجاجاً اس کانٹریکٹ سے آزاد ہونے کے لیے پی سی بی کو نوٹس بھجوا دیا ہے۔ عمران فرحت کے بقول انہیں انڈین لیگ کی جانب سے کھیلنے کی پیشکش بھی ہوئی ہے اور وہ اس پیشکش پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ انڈین لیگ کھیلنے کے لیے انہیں کافی پر کشش پیشکش ہوئی ہے۔ عمران فرحت نے کہا کہ کرکٹ بورڈ نے انہیں کانٹریکٹ تو دیا لیکن کرکٹ کھیلنے کا موقع نہیں دے رہے اور اگر کسی کھلاڑی کو ڈومیسٹک اور بین الاقوامی دونوں سطح پر اچھی کارکردگی کے باوجود ٹیم میں نہ رکھا جائے تو اسے کانٹریکٹ ملنے کا کیا فائدہ اور ویسے بھی اس کانٹریکٹ میں کافی پابندیاں ہیں۔ ایک روزہ میچز میں تیس کی اوسط سے 974 رنز بنانے والے اوپنگ بیٹس مین کا کہنا تھا کہ ان حالات میں وہ چاہتے ہیں کہ وہ کانٹریکٹ کی پابندیوں سے آزاد ہوں تاکہ وہ ملک سے باہرجہاں چاہیں کرکٹ کھیل سکیں۔ عمران فرحت کا کہنا ہے کہ ان کی کارکردگی کے باوجود سلیکشن کمیٹی نے سکاٹ لینڈ جانے والی ٹیم میں انہیں نہیں رکھا۔ عمران فرحت کی سکاٹ لینڈ کے لیے ٹیم میں سلیکشن نہ ہونے پر ان کے سسر سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد الیاس نے بھی سلیکٹرز کے ساتھ مبینہ بد کلامی کی تھی جبکہ عمران فرحت نے خود فون پر سلیکشن کمیٹی کے سربراہ سے اپنی سلیکشن نہ ہونے کی وجہ دریافت کی تھی جن پر انہیں بورڈ کی طرف سے سر زنش بھی ہوئی تھی۔ ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے لیے بھی سلیکٹرز کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام عمران فرحت کا کہنا تھا کہ اس سلیکشن کمیٹی کی موجودگی میں ان کا مستقبل محفوظ نہیں ہے لہذا وہ سنٹرل کانٹریکٹ نہیں لینا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ انہوں نے سوچ سمجھ کر اپنے خاندان سے مشورہ کر کے کیا ہے۔ عمران فرحت نے کہا کہ اگر چہ انہوں نے انڈین لیگ کھیلنے کی پیشکش باضابطہ طور پرابھی تک قبول تو نہیں کی لیکن وہ اس پر غور کر رہے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس انتباہ پر کہ اگر کسی کھلاڑی نے انڈین لیگ میں شرکت کی تو اس پر پاکستان کی کرکٹ کے دروازے بند ہو جائیں گے عمران فرحت کا کہنا ہے کہ ہر بورڈ کے چئرمین کی اپنی پالیسی ہوتی ہے جب نیا چئرمین آئے گا تو ہو سکتا ہے کہ اس معاملے پر اس کی اپنی پالیسی ہو۔ | اسی بارے میں کرکٹرز کو سینٹرل کنٹریکٹ مل گئے03 August, 2007 | کھیل پاکستان:ممکنہ 30 کھلاڑیوں کا اعلان10 July, 2007 | کھیل عمران فرحت پر جرمانہ11 May, 2007 | کھیل میرا داماد ٹیم میں کیوں نہیں ہے؟08 May, 2007 | کھیل تربیتی کیمپ کوئٹہ سے لاہور منتقل07 July, 2007 | کھیل انضمام سینٹرل کنٹریکٹ سے باہر16 July, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||