BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 May, 2007, 16:09 GMT 21:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عمران فرحت پر جرمانہ

عمران فرحت (فائل فوٹو)
عمران نے کرکٹ بورڈ سے اپنی حالیہ غلطی کی تحریری معافی مانگی ہے (فائل فوٹو)
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اووپنگ بیٹسمین عمران فرحت کی جانب سے سلیکشن کمیٹی کے سربراہ صلاح الدین صلو کو اپنی ٹیم میں سلیکشن نہ ہونے کی بابت فون کال کرنے کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی نظم و ضبط کی کمیٹی نے پی سی بی کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف سے ملاقات کے بعد عمران فرحت کو سزا سنائی ہے۔ عمران فرحت پاکستان کے لیے جو اگلا میچ کھیلیں گے اس کی میچ فیس میں سے 50 فیصد بطور جرمانے کے کاٹ لی جائے گی۔

چھ ماہ تک عمران فرحت کے رویہ کا جائزہ لینے کے لیے ان پر پی سی بی کی کڑی نظر رہے گی تا کہ وہ آئندہ ڈسپلن کی کسی خلاف ورزی کے مرتکب نہ ہوں۔ پی سی بی نے سزا سنانے سے پہلے عمران فرحت کو اپنے اس عمل کی وضاحت کا پورا موقع دیا۔

پی سی بی کے مطابق عمران فرحت کو کم سزا دی گئی ہے کیونکہ ان کا گزشتہ کا رویہ کافی بہتر رہا ہے اور انہوں نے اپنی اس حالیہ غلطی کی تحریری معافی مانگی ہے۔

پی سی بی کی جانب سے دی گئی پریس ریلیز میں واضح کیا گیا ہے کہ نظم وضبط پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ابو ظہبی میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ہونے والی سیریز کے لیے ٹیم میں اپنا نام نہ پا کر عمران فرحت نے سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین صلاح الدین صلو کو فون کر کے اپنا نام ٹیم میں نہ ہونے کی وجہ دریافت کی تھی جبکہ عمران فرحت کے سسر سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد الیاس نے بھی مبینہ طور پر سلیکشن کمیٹی کی اراکین سے ترش کلامی کی تھی۔

عمران فرحتپاکستانی ٹیم
نہیں، ریلیکس نہیں کرتا: عمران فرحت
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد