BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 July, 2007, 09:22 GMT 14:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان ایشاء کپ کھیلے گا

پاکستان کی ہاکی کی عالمی درجہ بندی میں پانچویں پوزیشن ہے
پاکستان ہاکی فیڈریشن نے یوٹرن لیتے ہوئے اس سال یکم سے نو ستمبر تک چنائی میں ہونے والے ایشیا کپ ہاکی ٹورنامنٹ میں شرکت کا فیصلہ کر لیا ہے اور بھارتی ہاکی فیڈریشن کو اس فیصلے سے با ضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اس کپ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس پر سابق اولمپئن اورہاکی شائقین کی جانب سے ہاکی فیڈریشن پر سخت تنقید ہوئی تھی۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے اعلان کے مطابق ٹیم کو ایشیا کپ میں بھیجنے کا اب فیصلہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ ایشیا کپ ایک رینکنگ ٹورنامنٹ ہے۔

پاکستان کی ہاکی کی عالمی درجہ بندی میں پانچویں پوزیشن ہے اس سے پہلے جرمنی، آسٹریلیا، ہالینڈ اور سپین ہیں۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے مطابق انہیں فوری پر یہ فیصلہ کرنا پڑا تا کہ اس ٹورنامنٹ میں شرکت نہ کر کے کہیں پاکستان کی ہاکی ٹیم کی عالمی درجہ بندی میں تنزلی نہ ہو جائے۔

 پی ایچ ایف کے اس فیصلے پر سابق المپئنز نے شدید تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ شکست کے خوف سے ٹورنامنٹ نہ کھیلنا درست فیصلہ نہیں اور جیت ہار کو ذہن سے نکال کر زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی تجربہ دینا بھی کھلاڑیوں کے لیے ضروری ہے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر میر ظفر اللہ جمالی نے فیڈریشن کے سیکریٹری خالد محمود کے ساتھ مشورہ کر کے ٹیم کو بھارت بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے اور پی ایچ ایف کے مطابق انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

اس سے پہلے ٹیم کو نہ بھیجنے کی وجہ پی ایچ ایف نے یہ بتائی ہے کہ ایشیا کپ میں بھیجنا ٹیم کے اہم ٹورنامنٹ کے لیے تیاری کے عمل کے لیے اچھا نہیں تھا لیکن اب یہ فیصلہ ایشیا کپ کے رینکنگ ٹورنامنٹ ہونے کے سبب تبدیل کرنا پڑا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کا مؤقف تھا کہ اگر اس سال دسمبر میں ہونے والی چمپئنز ٹرافی سے پہلے کھلاڑی ایشا کپ میں اچھی کارکردگی نہ دکھا سکے تو ان کا مورال گر سکتا ہے اور اعتماد میں کم ہو سکتی ہے جبکہ نہ بھیجنے سے مالی بچت کا بھی کہا گیا تھا۔

پی ایچ ایف کے اس فیصلے پر سابق المپئنز نے شدید تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ شکست کے خوف سے ٹورنامنٹ نہ کھیلنا درست فیصلہ نہیں اور جیت ہار کو ذہن سے نکال کر زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی تجربہ دینا بھی کھلاڑیوں کے لیے ضروری ہے۔

اب پی ایچ ایف کے ایشیا کپ میں شرکت کے فیصلے کو سابق المپئنز نے خوش آئند قرار دیا ہے۔

لیگ کھیلنے والے سینیر کھلاڑیوں پر پہلے ہاکی کے دروازے بند کرنے اور پھر فٹنس کا ثبوت دے کر کسی بھی سینیر کھلاڑی کو ٹیم میں لینے کے اعلان کے بعد یہ دوسرا فیصلہ ہے جس پر پاکستان ہاکی فیڈریشن نے یو ٹرن لیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد