’رابطے کے فقدان کی وجہ سے گڑبڑ ہوئی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی امپائر علیم ڈار ورلڈ کپ فائنل میں امپائرنگ کو اپنے اور اپنے ملک کے لیے اعزاز سمجھتے ہیں لیکن اس فائنل کے اختتامی لمحات میں پیش آنے والے واقعے پر وہ کچھ زیادہ بات کرنے کے لیے تیار نہیں اور صرف اتنا ہی کہنے پر اکتفا کرتے ہیں کہ میچ آفیشلز کے درمیان رابطے کے فقدان کے سبب ایسا ہوا۔ واضح رہے کہ اس فائنل کا اختتام میچ آفیشلز کی قوانین سے بہت زیادہ واقفیت یا لاعلمی کی بحث کے ساتھ اس طرح ہوا کہ بارش کی وجہ سے جب امپائرز نے کھیل روکا تو یہ سمجھا گیا کہ میچ ختم کردیا گیا ہے اور آسٹریلوی کھلاڑیوں نے جیت کا جشن منانا شروع کردیا لیکن انہیں بتایا گیا کہ ابھی تین اوورز باقی ہیں جو اگلے روز بھی کھلائے جاسکتے ہیں تاہم دونوں کپتانوں کی مشاورت سے یہ اوورز کرائے گئے لیکن انتہائی کم روشنی میں سلو بولرز نے یہ اوورز کرائے۔ بعد میں میچ ریفری جیف کرو نے اعتراف کیا کہ دونوں اننگز میں بیس اوورز مکمل ہونے کا مطلب واضح تھا کہ ڈک ورتھ لوئس قانون کے تحت میچ کا نتیجہ حاصل کرلیا جاتا۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو میلکم اسپیڈ کو بھی اس صورتحال پر معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنا پڑا ہے۔ علیم ڈار نے باربیڈوس سے وطن واپسی پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’دراصل ورلڈ کپ کی پلیئنگ کنڈیشنز عام میچوں سے قدرے مختلف تھیں جس کی وجہ سے میچ آفیشلز کے درمیان رابطے کے فقدان کے سبب غلط فہمی پیدا ہوئی۔‘ علیم ڈار کا کہنا ہے ’میچ کے بعد تقریب تقسیم انعامات تھی اور بھی بہت کچھ ہونا تھا۔ روشنی بھی خراب ہوگئی تھی لیکن چونکہ یہ میچ یکطرفہ ہوگیا تھا لہذا یہ اتنا بڑا ایشو نہیں ہے۔‘ علیم ڈار نہیں سمجھتے کہ اس واقعے پر آئی سی سی ان کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے جس کی وجہ سے ان کا کریئر خطرے سے دوچار ہوسکتا ہے۔ علیم ڈار سے قبل پاکستان کے محبوب شاہ کو1987ء ورلڈکپ کے فائنل میں امپائرنگ کا اعزاز حاصل ہوچکا ہے لیکن علیم ڈار38 سال کی عمر میں ورلڈ کپ فائنل کھلانے والے کم عمر ترین امپائر ہیں۔ علیم ڈار جن کے کریڈٹ پر37 ٹیسٹ اور88 ون ڈے انٹرنیشنل میچز ہیں اس خواہش کے ساتھ ویسٹ انڈیز گئے تھے کہ پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ کا فائنل کھیلے لیکن جب پاکستانی ٹیم پہلے ہی مرحلے میں ورلڈ کپ سے باہر ہوگئی تو انہوں نے اپنی کارکردگی پر غیرمعمولی توجہ دینی شروع کردی تاکہ اچھی رپورٹ کی بنیاد پر انہیں فائنل میں امپائرنگ کے اعزاز سے نوازا جائے اور فائنل سے دو دن پہلے علیم ڈار کو یہ خوش خبری سنا دی گئی۔ |
اسی بارے میں آسٹریلیا چوتھی مرتبہ چیمپئن28 April, 2007 | کھیل سٹیو بکنر کا لگاتار پانچواں فائنل27 April, 2007 | کھیل پاکستانی، انڈین کھلاڑیوں کے جوہر 15 April, 2007 | کھیل نیوزی لینڈ فاتح، کپتان کی سنچری02 April, 2007 | کھیل آسٹریلیا کی 103 رنز سے جیت27 March, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||