نیوزی لینڈ سیمی فائنل میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گریناڈا میں ورلڈ کپ سپر ایٹ مرحلے کے ایک اہم میچ میں نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقہ کو پانچ وکٹوں سے شکست دے کر ورلڈکپ کے سیمی فائنلز میں اپنی جگہ یقینی بنالی ہے۔ اس طرح منگل کو ہونے والا جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کا میچ ایک کواٹر فائنل کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ نیوزی لینڈ کے کریگ میکملن کو مین آف دی میچ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ انہوں نے نہ صرف 38 رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے بلکہ عمدہ بالنگ بھی کرائی اور صرف پانچ اوورز میں 23 رنز دے کر تین اہم بلے بازوں کو آؤٹ کیا۔ شین بانڈ نے دو جبکہ جیمز فرینکلن اور وٹوری نے ایک ایک کھلاڑی کو آوٹ کیا۔ نیوزی لینڈ نے اس میچ میں ٹاس جیت کر جنوبی افریقہ کو پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت دی اور جنوبی افریقہ کی ٹیم آغاز ہی میں وکٹیں گرنے کے بعد مقررہ پچاس اوورز میں صرف 193 رنز بنا پائی۔ جنوبی افریقہ نے فیلڈ میں بھی کچھ اچھی کارکردگی نہیں دکھائی اور چار کیچ ڈراپ کئے۔ 194 رنز کے ہدف کے تعاقب میں نیوزی لینڈ کی پہلی وکٹ پچیس اور دوسری بیالیس کے مجموعی سکور پر گری۔
آغاز ہی میں نقصان کے بعد کپتان سٹیفن فلیمنگ اور سٹائرس نے ٹیم کو سہارا دیا اور دونوں نے ذمہ داری سے بیٹنگ کرتے ہوئے 78 رنز کی پارٹنر شپ بنائی۔ سٹیفن فلیمنگ نے محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے ورلڈ کپ میچوں میں پانچویں اور جنوبی افریقہ کے خلاف اپنی ساتویں نصف سنچری مکمل کی۔ اس کے فوراً بعد وہ شان پولاک کی گیند پر مارک باؤچر کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہوگئے۔ اس اننگز میں پہلے پچیس اور پھر چھتیس کے انفرادی سکور پر ان کا کیچ ڈراپ ہوا۔ سٹائرس اور کریگ میکملن نے 56 رنز کی پارٹنر شپ بنائی۔ سٹائرس نے ذمہ داری سے بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی نصف سنچر مکمل کی۔ ایک روزہ میچوں میں یہ ان کی انیسویں نصف سنچری تھی۔ 56 کے انفرادی سکور پر وہ کیچ آؤٹ ہوئے۔ اس سے قبل جنوبی افریقہ کی جانب سے اے بی ڈیولیئرز اور کپتان گریم سمتھ نے اننگز کا آغاز کیا اور جنوبی افریقہ کو دھچکہ اس وقت لگا جب صرف تین کے مجموعی سکور پر دونوں اوپپنرز آوٹ ہوگئے۔ گریم سمتھ صرف ایک رن بنا کر شین بانڈ کے پہلے ہی اوور میں اورم کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہوئے اور پھر اگلے ہی اوور میں اے بی ڈیولیئرز بھی جیمز فرینکلن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو کر پویلین واپس لوٹ گئے۔ اس موقع پر ژاک کیلیس اور گبز نے ٹیم کو کچھ سہارا دیا اور دونوں نے دباؤ میں کھیلتے ہوئے 49 رنز کی شراکت بنائی۔ لیکن یہ شراکت بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی اور ژاک کیلیس 22 رنز بنا کر ڈی وٹوری کی گیند پر شین بانڈ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔ ژاک کیلیس کے آؤٹ ہونے کے بعد گبز کا ساتھ دینے کے لیے اے جے پرنس کریز پر آئے اور دونوں نے ذمہ داری سے بیٹنگ کرتے ہوئے 76 رنز کی پارٹنر شپ مکمل کی۔ گبز نے محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی نصف سنچری مکمل کی اور پھر 60 کے انفرادی سکور پر کریگ میکملن نے انہیں بولڈ کر دیا۔ گبز کے بعد پرنس اور باؤچر بھی زیادہ دیر کریز پر نہ رک سکے اور مجموعی سکور میں صرف اکیس رنز کے اضافے کے ساتھ دونوں پویلین لوٹ چکے تھے۔ یہ دونوں کریگ میکملن کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔ پرنس 37 اور باؤچر 16 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ انڈریو ہال نے 17 رنز بنائے۔ شان پولاک 21 رنز بن کر ناٹ آؤٹ رہے۔ آخری بار یہ دونوں ٹیمیں جب 2003 کے ورلڈ کپ میں آمنے سامنے آئیں تھی تو نیوزی لینڈ وہ میچ بھی نو وکٹوں سے جیت گیا تھا۔ اس میچ میں سٹیفن فلیمنگ نے صرف 132 گیندوں پر شاندار 132 رنز بنائے تھے۔ ان دونوں ٹیموں کے آپس میں ہونے والے میچوں میں اب تک جنوبی افریقہ 27 بار اور نیوزی لینڈ 16 مرتبہ فاتح رہا ہے۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم: جنوبی افریقہ کی ٹیم: |
اسی بارے میں نیوزی لینڈ کی پہلی شکست12 April, 2007 | کھیل ویسٹ انڈیز ورلڈ کپ سے باہر10 April, 2007 | کھیل بنگلہ دیش کی تاریخی فتح 07 April, 2007 | کھیل جنوبی افریقہ نے آئر لینڈ کو ہرا دیا03 April, 2007 | کھیل ویسٹ انڈیز کی دوسری شکست29 March, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||