شہریار کو سلیم الطاف پر اعتراض | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین شہریارخان نے ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی شکست کے اسباب معلوم کرنے والی کمیٹی میں سلیم الطاف کی موجودگی پر اعتراض کرتے ہوئے اسے اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ورلڈ کپ میں ٹیم کی شکست کے اسباب معلوم کرنے کے لیے جو تین رکنی کمیٹی قائم کی ہے اس میں اعجاز بٹ اور صلاح الدین صلو کے علاوہ سلیم الطاف بھی شامل ہیں جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز ہیں اور بورڈ کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے بعد انہیں چار سال بعد پاکستان میں ہونے والے عالمی کپ کا پروجیکٹ ڈائریکٹر بنا دیا گیا ہے۔ شہریار خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کوئی ذاتی مسئلہ درپیش نہیں ہے لیکن یہ بات اصولوں کے منافی معلوم ہوتی ہے کہ آپ کپتان، منیجر اور دوسرے لوگوں کو بلارہے ہیں لیکن پی سی بی کے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز سے سوالات کرنے کے بجائے انہیں کمیٹی میں بٹھا دیا ہے۔ سلیم الطاف کو کمیٹی میں نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ اس سے کمیٹی کی ساکھ اور مقصد متاثر ہوگا۔ شہریارخان نے کہا کہ انہوں نے کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار نہیں کیا لیکن مصروفیت کے سبب وہ نہیں گئے۔ تاہم انہوں نے ٹیم کی شکست کی وجوہات کے بارے میں اپنا تحریری بیان کمیٹی کو بھجوادیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اگر کمیٹی مزید کچھ جاننا چاہے تو وہ اس کے لیے حاضر ہیں۔ شہریار خان2003 ورلڈ کپ کے بعد لیفٹیننٹ جنرل توقیرضیا کی جگہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بنے تھے لیکن2007 ورلڈ کپ سے قبل ان سے استعفی لے کر ڈاکٹر نسیم اشرف کو پاکستان کرکٹ بورڈ ایڈہاک کمیٹی کا چیئرمین مقرر کردیا گیا۔ |
اسی بارے میں کرکٹ انکوائری: کمیٹی بنا تماشا دیکھ 04 April, 2007 | کھیل نسیم اشرف کا استعفی نامنظور30 March, 2007 | کھیل ’میچ فِکسنگ مستقل ہوتی ہے‘25 March, 2007 | کھیل وولمر کوچ رہنا چاہتے تھے: شہریار24 March, 2007 | کھیل شہریار خان استعفٰی: فیصلہ کس کا تھا؟07 October, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||