ایشز: آسٹریلیا کی لگاتار چوتھی فتح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میلبورن ٹیسٹ کےتیسرے روز آسٹریلیا نے انگلینڈ کو ایک اننگز اور ننانوے رنز سے شکست دے دی ہے۔ انگلینڈ نے پہلی اننگز میں ایک سو انسٹھ رنز بنائے تھے جبکہ دوسری اننگز میں ان کی ساری ٹیم صرف ایک سو اکسٹھ رنز سکور کر سکی۔ آسٹریلیا نے اپنی پہلی اننگز میں چار سو انیس رنز بنائے تھے اور یوں انگلینڈ کی ٹیم کومیچ کے تیسرے روز ہی آسٹریلیا سے ایک اننگز اور ننانوے رنز سے شکست اٹھانا پڑی۔ یہ حالیہ ایشز سیریز میں انگلینڈ کی لگاتار چوتھی شکست ہے۔ انگلینڈ کی دوسری اننگز میں بھی اینڈریو سٹراس نے سب سے زیادہ اکتیس رنز بنائے۔ انہوں نے پہلی اننگز میں بھی نصف سنچری بنائی تھی۔ ان کے علاوہ کوئی کھلاڑی بھی آسٹریلیا کی نپی تلی بولنگ کا سامنا نہ کر سکا۔ دوسری اننگز میں انگلینڈ کی پہلی ووکٹ اکتالیس کے سکور پر گری لیکن اس کے بعد تواتر کے ساتھ انگلینڈ کے کھلاڑی پویلین میں لوٹتے رہے۔ اس میچ میں شین وارن نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی سات سو وکٹیں مکمل کیں۔ انگلینڈ کی پہلی اننگز میں کھیل کے پہلے روز شین وارن نے پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا تاہم وہ دوسری اننگز میں وہ صرف دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کر سکے۔ آسٹریلیا کی طرف سے میتھیو ہیڈن اور سائمنڈز نے سنچریاں سکور کر کے انگلینڈ کے لیئے ایک بڑا ہدف مقرر کیا۔ہیڈن کی یہ ستائیسویں اور سائمنڈز کی پہلی ٹیسٹ سنچری تھی۔ ہیڈن 153 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ سائمنڈز نے 156 رنز بنائے۔ شین وارن کی 700 ٹیسٹ وکٹیں آسٹریلیا سپینر شین وارن، انگلینڈ کے اوپنر بیٹسمین سٹراس کو کلین بولڈ کرکے سات سو وکٹیں حاصل کرنے والے دنیا کے پہلے بالر بن گئے ہیں۔ انہوں نے پہلی اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ یہ شین وارن کا ایک سو چوالیس واں ٹیسٹ میچ تھا۔ انہوں نے سنہ انیس سو بانوے میں سڈنی میں انڈیا کے خلاف پہلا میچ کھیلا تھا۔ ان کی بہترین کارکردگی اکہتر رنز کے عوض سات وکٹ ہے۔ میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جانے والا یہ ٹیسٹ اس اعتبار سے بھی اہم تھا کہ شین وارن اور گلین میگرا کا یہ آخری ٹیسٹ ہوگا۔ انگلینڈ کے کپتان اینڈریو فلِنٹوف نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا جو مبصرین کے مطابق بھیگے ہوئے موسم میں انتہائی غلط فیصلہ تھا۔ پہلے دن میلبورن میں بارش ہونے کی وجہ میچ شروع ہونے میں آدھے گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔ انگلینڈ کے لیے کرِس ریِڈ نےوکٹ کیپنگ کی جبکہ پچھلے تین میچوں میں خراب کارکردگی کی وجہ سے گیرن جونز کو ڈراپ کر دیا گیا تھا۔ آسٹریلیا نے جسے تین، صفر کی برتری حاصل ہے، پرتھ میں تیسرے میچ کی فاتح ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی تھی۔انگلینڈ کی اب یہ کوشش ہے کہ پانچ صفر کی شکست سے بچا جائے تا کہ’1921-1920‘ کی سیریز کے نتائج نہ دہرائے جائیں۔ | اسی بارے میں آسٹریلیا کے دو کھلاڑی آؤٹ26 December, 2006 | کھیل شین وارن کی وکٹیں، سات سو 26 December, 2006 | کھیل شین وارن کا عروج و زوال21 December, 2006 | کھیل انگلینڈ کو ’وائیٹ واش‘ کا سامنا24 December, 2006 | کھیل شین وارن ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر20 December, 2006 | کھیل شین وارن کے بعد میگرا بھی ریٹائر23 December, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||