انگلینڈ کو ’وائیٹ واش‘ کا سامنا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلینڈ منگل سے شروع ہونے والے چوتھے ایشز ٹیسٹ میں شکست سے پچنے کی پوری کوشش کرے گا تاکہ آسٹریلیا پانچ صفر سے سیریز نہ جیت پائے۔ ایشز کا آخری ’ وائیٹ واش‘1921-1920 کی سیریز میں ہوا تھا۔ لیکن چوتھا ٹیسٹ، جو میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا، شین وارن اور گلین میگرا کا آخری ٹیسٹ ہوگا اس لئے آسٹریلیا اس میچ پر پوری توجہ دے گا۔ وارن کو ،جو اپنے آبائی شہر کے گراؤنڈ میں کھیلیں گے، سات سو وکٹوں لینے والے پہلے کھلاری بننے کا اعزاز حاصل کرنے کے لیے صرف ایک اور وکٹ کی ضرورت ہے۔ توقع ہے کہ پہلے دن کے کھیل دیکھنے کے لیے تماشائیوں کی ایک لاکھ افراد کی عالمی ریکارڈ تعداد موجود ہو گی۔ پہلے دن کے کھیل کے لیے ساری ٹکٹیں فروخت ہوچکی ہیں اور ٹکٹوں کی تعداد نے 90800 کے پچھلے ریکارڈ (جو فروری 1961 میں میلبورن کرکٹ گراؤنڈ پر ہونے والے ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے درمیان ٹیسٹ کے دوسرے دن قائم ہوا تھا) اس کو بھی عبور کر لیا ہے۔ شین وارن جو ایک جذباتی الوداع کی توقع کر سکتے ہیں انگلینڈ کو ایک بار پھر شرمندہ کرنا چاہتے ہیں۔ وارن کا کہنا ہے ’دو ٹیسٹ باقی ہیں اور میری خواہش ہے کہ ہم اس سیریز کو شاندار طریقے سے ختم کریں۔ اگر ہم اسے پانچ صفر کی فتح سے ختم کریں تو یہ ایک عظیم ٹیم کا زبردست کارنامہ ہوگا‘۔ خبروں میں کھلاڑیوں کے ریٹائرمنٹ کی سرخیوں کے باوجود، کوچ جان بوکینن نے کہا ہے کہ وہ ٹیم کی توجہ میچ پر رکھنے کی کوشش کریں گے۔ ’اتنی خبروں کے وجہ سے ہم اپنے مقصد سے بھٹک سکتے ہیں لیکن میرے رائے میں ہم اس سے بہتر ٹیم ہیں۔ ہمارا مقصد صرف ایشز جیتنا نہیں بلکہ آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان ایک بڑی خلا بھی بنانا ہے‘۔ آسٹریلیا ،جو اپنے ٹیم میں شاید ہی کوئی تبدیلی لائے گے، نے صرف پندرہ دن میں ایشز کا راکھ دان انگلینڈ سے واپس لے لیا اور یہ سیریز جس سے بڑی توقعات تھی بڑی آسانی سے آسٹریلیا کے قبضے میں آگئی۔ آسٹریلیا کی ساری ٹیم چھ اننگز میں صرف دو بار آؤٹ ہوئی ہے اور انگلینڈ کی مایوس کن کارکردگی نے کوچ ڈنکن فلیچر کو سخت مشکلات میں ڈال دیا ہے۔
ممکن ہے کہ ناٹنگھم شائر کے کرس ریڈ چوتھے ٹیسٹ میں وکٹ کیپنگ کریں گے اور مِڈل سیکس کے آل راؤنڈر جِمی ڈارمپل بھی ساجد محمود کی جگہ لینگے۔ جِمی ڈارمپل بیٹنگ کو مضبوط کرنے کے لئے ٹیم میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔ فلنٹاف کا کہنا ہے کہ وہ سیریز میں ٹخنے میں چوٹ کے باعث طویل سپلز کے لیے بولنگ نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن اب درد سے نجات دلانے والے اِنجیکشن کی مدد سے ان کے درد میں کمی آئی ہے۔اور اِن کا پکا ارادہ ہے کہ ان کی ٹیم اگلے ٹیسٹ میں کامیاب ہوگی کیونکہ کراؤڈ میں انگلینڈ کے مداحوں کی بڑی تعداد ہوگی۔ ’ایشز کی شکست سے ہمیں بہت دکھ پہنچا لیکن ہمیں اس ہار کے دکھ کو بھول کر اگلے دو بڑے میچوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے‘۔ ’کئی کھلاڑی یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ آسٹریلیا کو آسٹریلیا میں ایک ٹیسٹ میچ میں ہرا سکتے ہیں اور وہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ آسٹریلیا کے خلاف کھیل سکتے ہیں۔ ہم صرف اپنے اور ملک کے لیے ہی نہیں کھیل رہے ہیں بلکہ اپنے مداحوں کے لیے بھی جو ہمیں دیکھنے آرہے ہیں۔ انگلینڈ کے فاسٹ بولر میتھیو ہوگارڈ نے مانا ہے کہ ایک مزید شکست کے نفسیاتی اثرات گہرے ہونگے۔ ہوگارڈ کا کہنا ہے ’ہمیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم آسٹریلیا کو ہرا سکتے ہیں۔ ہم نے اپنی صلاحیتوں کی جھلکیاں دکھائی ہیں۔ آسٹریلیا کو نا قابل شکست سمجھ کر ہم نفسیاتی طور پر متاثر نہیں ہونا چاہتے ہیں‘۔ چوتھے ٹیسٹ کے پہلے تین دنوں میں ہر روز 95000 شائقین کی توقع کی جاری ہے یہ شائقین کی تعداد کا ایک نیا ریکارڈ ہو گا ۔ لیکن پہلے دن کے کھیل کے دوران بارش کی پیشنگوئی اور اس کے بعد ابر آلود حالات اس ریکارڈ اور آسٹریلیا کی ’ وائیٹ واش‘ کی امیدوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں شین وارن ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر20 December, 2006 | کھیل ایشیز: آسٹریلیا بمقابلہ انگلینڈ18 December, 2006 | کھیل آسٹریلیا نے ایشز سیریز جیت لی18 December, 2006 | کھیل ایشیز: رِکی پونٹنگ کی سینچری23 November, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||