آسٹریلیا مستحکم پوزیشن میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میلبرن ٹیسٹ کےدوسرے روز کے اختتام پر آسٹریلیا نےسات وکٹ کے نقصان پر 372 رنز بنائے ہیں جس میں میتھیو ہیڈن اور اینڈرو سائمنڈس کی سنچریاں شامل ہیں۔ ہیڈن کی یہ ستائسویں سنچری ہے وہ 153 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ سائمنڈس 154 رنز بناکر ابھی ناٹ آؤٹ ہیں۔ آخری وکٹ ایڈم گلکرسٹ کی گری جو صرف ایک رن بناکر اظہر محمود کا شکار بنے۔آسٹریلیا کو دو سو تیرہ رنز کی سبقت حاصل ہو چکی ہے اور ابھی اسکے تین کھلاڑی آؤٹ ہونا باقی ہیں۔ کل جس وقت کھیل ختم ہوا تو دو وکٹوں کے نقصان پر آسٹریلیا کا سکور اڑتالیس رنز تھا۔ دوسرے روز کپتان رکی پونٹنگ بھی صرف سات رنزبنا سکے اور ہسّی بھی جلدی ہی آؤٹ ہوگئے۔ لیکن بعد میں ہیڈن اور سائمنڈ نے آسٹریلیا کی انگز کو سنبھالا۔ کھیل کے پہلے روز آؤٹ ہونے والے کھلاڑیوں میں اوپنر جسٹن لینگر اور نائٹ واچمین بریٹ لی تھے۔ دونوں وکٹیں انگلینڈ کے کپتان اینڈریو فلنٹاف نے لیں اور وہ اس وقت ہیٹ ٹرک پر تھے جب آسٹریلیا کا سکور 44 تھا۔ کھیل کے اختتام پر اسٹریلیا کے کپتان رکی پونٹنگ اور میتھیو ہیڈن کریس پر تھے۔ میلبرن میں کھیلنے جانے والے اس میچ میں انگلینڈ کی ٹیم ٹاس جیت کر پہلے کھیلتے ہوئے صرف 159 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔ شین وارن کی 700 ٹیسٹ وکٹیں سٹراس پچاس رنز پر آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے کک کے ساتھ اننگز کا آغاز کیا تھا۔ دوسرے کھلاڑیوں میں کک گیار اور بیل سات، کولِن وُڈ اٹھائیس اور ریڈ تین رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ساجد محمود بغیر رن بنائے آؤٹ ہوئے۔ کلارک اور لی نے دو دو وکٹیں جبکہ میکگرا نے ایک وکٹ حاصل کی ہے۔ یہ شین وارن کا ایک سو چوالیس واں ٹیسٹ میچ ہے۔ انہوں نے سنہ انیس سو بانوے میں سڈنی میں انڈیا کے خلاف پہلا میچ کھیلا تھا۔ ان کی بہترین کارکردگی اکہتر رنز کے عوض سات وکٹ ہے۔ میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جانے والا یہ ٹیسٹ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ شین وارن اور گلین میگرا کا یہ آخری ٹیسٹ ہوگا۔ انگلینڈ کے کپتان اینڈرو فلِنٹوف نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ میلبورن میں بارش ہونے کی وجہ میچ شروع ہونے میں آدھے گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔ انگلینڈ کے لیے کرِس ریِڈ وکٹ کیپنگ کریں گے جبکہ پچھلے تین میچوں میں خراب کارکردگی کی وجہ سے گیرن جونز کو ڈراپ کر دیا گیا ہے۔ آسٹریلیا نے جسے تین، صفر کی برتری حاصل ہے، پرتھ میں تیسرے میچ کی فاتح ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ انگلینڈ کی اب یہ کوشش ہے کہ پانچ صفر کی شکست سے بچا جائے تا کہ‘1921-1920 کی سیریز کے نتائج نہ دہرائے جائیں۔ | اسی بارے میں آسٹریلیا کے دو کھلاڑی آؤٹ26 December, 2006 | کھیل شین وارن کی وکٹیں، سات سو 26 December, 2006 | کھیل شین وارن کا عروج و زوال21 December, 2006 | کھیل انگلینڈ کو ’وائیٹ واش‘ کا سامنا24 December, 2006 | کھیل شین وارن ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر20 December, 2006 | کھیل شین وارن کے بعد میگرا بھی ریٹائر23 December, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||