عرفات اور ’ایکسٹرا‘ اچھا کھیلے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کو نتینی لے ڈبوا، بے یقینی یا ’دینی‘ یہ کہنا ذرا مشکل ہے لیکن جو بات بالکل عیاں ہے وہ یہ ہے کہ بڑا میچ اور تیز بولرز کو کھیلتے ہوئے پاکستانی کھلاڑیوں کے بیٹ اور پاؤں کانپنے لگتے ہیں۔ موہالی میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں ہتک آمیز شکست اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دو اہم بولروں کے ٹیم میں نہ ہونے کے باوجود باقی بولروں نے ٹھیک گیند کی لیکن ناتجربہ کاری یا ٹیم مینجمنٹ کی طرف سے روز روز کے تجربوں کی بدولت وہی ہوا کہ شروع میں کھلاڑی تو آؤٹ کر لیے لیکن تسلسل برقرار نہ رکھ سکے۔
لیکن نتینی کے تیز رن اپ اور بولنگ نے پاکستانی بلے بازوں پہ ایسی دھاک جمائی کہ وہ انہیں ایک کے بعد ایک وکٹ کا نذرانہ دیتے چلے گئے۔ محمد حفیظ ایک، عمران فرحت دو، یونس خان سات، شعیب ملک صفر اور کامران اکمل صرف ایک سکور بنا کر نتینی کا ’مشینی‘ شکار بنے۔ نتینی نے چھ اوور کروائے پانچ وکٹ لیے، اکیس رنز دیے اور یہ جا وہ جا۔ بس یاسر عرفات نے اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے کچھ مزاحمتی انداز اپنایا ورنہ ٹیم تو اپنے ماضی کا لوئسٹ ٹوٹل کا ریکارڈ توڑنے ہی والی تھی۔ پاکستان کے کوچ باب وولمر نے میچ سے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ کہ ’ہمیں پتہ ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے‘ اور کپتان یونس خان کا کہنا تھا کہ ’ہم مشکل حالات میں اچھا مقابلہ کرنے کے لیے مشہور ہیں اور اب بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہو گا‘۔
باب وولمر اور یونس خان دونوں ہی بڑے کایاں کرکٹ ہیں۔ وولمر کو پتہ تھا کہ پاکستان نے کیا کرنا ہے اور یونس خان جانتے تھے کہ اگر مشکل حالات نہ آئے تو ’ہماری‘ کارکردگی بھی مایوس کن ہی رہے گی۔ کیوں نہ ہو جس ٹیم کا سیکنڈ ہائیسٹ سکور یعنی سولہ ’ایکسٹرا‘ بنائے اس کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ | اسی بارے میں جنوبی افریقہ 124 رن سے جیت گیا 27 October, 2006 | کھیل پاکستان جنوبی افریقہ: سکور کارڈ27 October, 2006 | کھیل شعیب، آصف کا بی ٹیسٹ سے انکار27 October, 2006 | کھیل آج فیصلہ کن موہالی مقابلہ ہو گا27 October, 2006 | کھیل ویسٹ انڈیز نے انڈیا کو ہرا دیا26 October, 2006 | کھیل موہالی: کرکٹرز کی نماِزعید 24 October, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||