BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 August, 2006, 17:17 GMT 22:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں امپائر ہیئر پر تنقید

سرفراز نواز
’ہیئر کو پاکستانی قوم سے بھی معافی مانگنی چاہیے‘
پاکستان میں کرکٹ کے سابق کھلاڑیوں اور ذرائع ابلاغ میں امپائر ڈیرل ہیئر کا خط موضوعِ بحث بنا رہا۔ پاکستان میں اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔

کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انتخاب عالم نے ہیئر کے خط کے منظر عام پر آنے کے بعد کہا کہ مجھے یہ خبر پڑھ کر دھچکہ لگا ہے۔ ایک اور سابق کپتان جاوید میانداد نے کہا کہ یہ امپائرنگ کی تاریخ کا بد ترین واقعہ ہے۔

پاکستان میں اخبارات میں ڈیرل ہیئر کی طرف سے پانچ لاکھ ڈالر کے عوض ریٹائرمنٹ کی پیشکش کی خبر کو بہت جگہ دی گئی۔ بہت سے اخبارات نے ان کے بارے میں کارٹون بھی بنائے۔

عوامی حلقوں میں بھی ڈیرل ہیئر کے بارے میں منفی جذبات ہیں۔ ایک شخص نے کہا کہ ان کا رویہ پولیس والوں جیسا ہے اور ان کی انا کا مسئلہ ہے۔ ’میرے خیال میں ان کو گھر چلے جانا چاہیئے لیکن اس سے پہلے ان کے خلاف ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کی کارروائی ہونی چاہیے‘۔

قصہ مختصر پاکستانی محسوس کرتے ہیں ڈیرل ہیئر کے خط لکھنے سے ان کی ٹیم کی بے گناہی ثابت ہو جاتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ ڈیرل ہیئر میدان میں اور میدان کے باہر درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

پاکستان کے سابق فاسٹ بالر سرفراز نواز کا کہنا ہے کہ ہیئر کو نہ صرف پاکستانی ٹیم بلکہ پاکستانی قوم سے بھی معافی مانگنی چاہیئے۔

ابھی یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ کہانی ختم ہو گئی ہے کیونکہ انضمام الحق کے خلاف کارروائی ہونا باقی ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ اب الزامات کو ختم کر کے کرکٹ کے مقابلوں کی طرف توجہ دینی چاہیئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد