BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 July, 2006, 13:44 GMT 18:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’چار دن کی کوچنگ لاحاصل عمل‘

’اس تربیت سے ایسا لگتا ہے کہ کھلاڑی مزید کنفیوز ہوگئے‘
پاکستان ٹیم کے سابقہ فاسٹ بالر اور پاکستان اے ٹیم کے سابق کوچ عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ صرف چار دن کے لیئے جنوبی افریقہ کے فیلڈنگ کوچ جونٹی رہوڈز سے پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کروانا ایک لاحاصل عمل تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ’جونٹی کی چار دن کی تربیت کا فائدہ دنیا نے لارڈز میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ میچ میں دیکھ لیا‘۔

انہوں نے کہا کہ صرف چار دن کے لیے جونٹی رہوڈز سے تربیت دلانے کا عمل کافی مضحکہ خیز لگتا ہے کیونکہ کسی بھی چیز کو سیکھنے کے لیئے یہ وقت انتہائی نا کافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ’اس تربیت سے ایسا لگتا ہے کہ کھلاڑی مزید کنفیوز ہوگئے کیونکہ جو کچھ جونٹی نے انہیں بتایا اس کے لیئے بار بار پریکٹس کی ضرورت تھی اور کوئی بھی تکنیک ایک بار بتانے سے تو کسی کو سمجھ نہیں آ سکتی اور جو علم پاکستانی ٹیم کے پاس پہلے سے تھا وہ اس سے بھی فائدہ نہ اٹھا سکی‘۔

عاقب جاوید نے کہا کہ بورڈ کو چاہیئے تھا کہ کم از کم ڈیڑھ سے دو مہینے کے لیے جونٹی کو بلایا جاتا تب ہی ممکن تھا کہ اس کی تربیت کا کوئی فائدہ ہو سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے زیادہ کیچ سلپ میں گرے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سلپ کی پوزیشن پر پاکستان کے پاس سپیشلسٹ فیلڈر نہیں اور یونس خان کے ٹیم میں نہ ہونے سے یہ کمی زیادہ ابھر کر سامنے آئی۔

عاقب جاوید نے کہا کہ پاکستانی ٹیم اس وقت اپنے بہترین بالرز سے محروم ہے اور ایسی صورت میں ٹیم کو فیلڈنگ میں زیادہ ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیئے لیکن لگتا ہے کہ جونٹی کی تربیت کا فائدے کی بجائے نقصان ہی ہوا۔

جونٹی رہوڈز نے پاکستان میں اپنے مختصر قیام کے بعد روانگی سے پہلے یہ دعوٰی کیا تھا کہ ان کی صرف چار دن کی تربیت سے ہی پاکستانی کھلاڑیوں کو کافی فائدہ ہوا ہے اور یہ فائدہ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں نظر آئے گا لیکن پہلے ٹیسٹ میچ میں ہی جونٹی کے دعوے کی قلعی کھل گئی اور پاکستانی فیلڈروں نے پہلی اننگز میں چار کیچ چھوڑے۔

پاکستانی کھلاڑیوں میں سے بھی کچھ نے یہ تسلیم کیا تھا کہ صرف چار دن کی تربیت سے کوئی معجزہ رونما نہیں ہو سکتا۔ محمد یوسف کا کہنا تھا کہ’ ایسا نہیں کہ چار دن میں جونٹی ہمیں اچھا فیلڈر بنا گیا کیونکہ اچھا فیلڈر بننے کے لیے ہمیں بہت پریکٹس کی ضرورت ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد