شاہد نذیرکی ٹیم میں پھر واپسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فاسٹ بولر شاہد نذیر بھلا کر دوبارہ یاد کیے جانے کے عادی ہوچکے ہیں۔ انگلینڈ کا دورہ کرنے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم میں ان کی شمولیت بین الاقوامی کرکٹ میں ان کی تیسری واپسی ہے لیکن انہیں امید ہے کہ اس مرتبہ انہیں کھلائے بغیر گھر واپس نہیں بھیجا جائے گا۔ اٹھائیس سالہ شاہد نذیر نے آخری مرتبہ سات سال قبل ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی جب وہ سری لنکا کے خلاف لاہور میں ایشین ٹیسٹ کرکٹ چیمپئن شپ کا ٹیسٹ کھیلے تھے۔ یہ وہی میچ ہے جس میں وسیم اکرم ٹیسٹ کرکٹ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے پہلے پاکستانی بولر بنے تھے۔ چھ سال قبل ان کا آخری ون ڈے انٹرنیشنل بھی لاہور ہی میں سری لنکا کے خلاف تھا۔ شاہد نذیر گزشتہ سال بھارت اور ویسٹ انڈیز کے دورے میں وہ سلیکٹرز کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہے لیکن انہیں کسی میچ میں کھیلنے کا موقع نہ مل سکا۔ ان کی سوئنگ ان کا مؤثر ہتھیار ہے جس نے انہیں
دھیمے لہجے میں گفتگو کرنے والے شاہد نذیر’ان آؤٹ‘ کو کرکٹ کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وسیم اکرم، وقار یونس اور عاقب جاوید کی موجودگی میں کسی بھی دوسرے بولر کے لیئے ٹیم میں جگہ بنانا آسان نہیں تھا لیکن وہ کسی بھی مرحلے پر مایوس نہیں ہوئے بلکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی کے بل پر ہمیشہ ٹیم میں واپسی کے لیئے پرامید رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شاہد نذیر نے دس سال قبل انگلینڈ ہی میں اپنا پہلا ون ڈے انٹرنیشنل کھیلا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ دس سال بہت بڑا عرصہ ہوتا ہے انہیں خوشی ہے کہ وہ پھر انگلینڈ جارہے ہیں۔ انہیں لیگ کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے وہاں کی وکٹوں اور موسم کا اندازہ ہے۔اگر انہیں کھیلنے کا موقع ملا تو ان کی کوشش ہوگی کہ اپنے انتخاب کو درست ثابت کر دکھائیں۔ ٹیم میں مستقل جگہ بنانا ان کی اولین ترجیح ہے۔ شاہد نذیر کے خیال میں انگلینڈ کی ٹیم متوازن ہے وہ اس کے خلاف باغ جناح میں سہ روزہ میچ کھیل چکے ہیں جس میں انہوں نے اچھی بولنگ کی تھی لیکن انگلینڈ میں انگلش بیٹسمینوں کو بولنگ کرنا چیلنج ہوگا اور اسی میں کرکٹ کا مزہ ہے۔ | اسی بارے میں جونٹی رھوڈز پاکستان پہنچ گئے10 June, 2006 | کھیل ٹیم مینیجرظہیر عباس ہونگے06 June, 2006 | کھیل انگلینڈ میں جیت ففٹی ففٹی: وولمر30 May, 2006 | کھیل شعیب اختر کا امتحان دو میچ27 May, 2006 | کھیل ’جیتنے کی کوشش کریں گے‘22 April, 2006 | کھیل فٹ نس کیمپ میں 21 کھلاڑی شامل18 May, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||