BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 June, 2006, 11:18 GMT 16:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کلکتہ والے برازیل کے حمایتی کیوں؟

کلکتہ میں فٹبال کا کھیل غرباء میں زیادہ مقبول ہے۔
کلکتہ کے وسط میں ایک پرہجوم گلی میں لڑکوں کا ایک گروہ اپنے کام میں مصروف ہے۔

دو لڑکے انتہائی احتیاط سے ایک عارضی سیڑھی کو تھامے ہوئے ہیں جبکہ ان کا ایک ساتھی اس سیڑھی پر چڑھ کر بالکونی پر کچھ ممالک کے جھنڈے لگا رہا ہے۔تھوڑی ہی دیر میں برازیل، ارجنٹائن، انگلینڈ، جرمنی یہاں تک کہ فٹبال عالمی کپ میں شریک تمام بتیس ممالک کے جھنڈے کلکتہ کی اس مخدوش عمارت پر لہرانے لگے۔

اگلی گلی میں ایک مصور فٹبال کے عالمی ستاروں کی ایک بڑی تصویر کو آخری ’ٹچ‘ دے رہا ہے۔ ایک ہجوم اس تصویر کو دیکھنے کے لیئے جمع ہے اور تب ہی چند ایسے بچوں کا گروہ جن کے چہروں پر برازیل کے جھنڈے بنے ہوئے ہیں، نعرے لگاتا ہے برازیل، برازیل ۔۔۔۔

کلکتہ والوں پر فٹبال کا بخار چڑھ چکا ہے۔

ایک کروڑ کی آبادی والے انڈیا کے’فٹبال کیپیٹل‘ میں میلے کا سا سماں ہے۔ جب باقی انڈین ویسٹ انڈیز میں اپنی ٹیم کو کرکٹ کھیلتے دیکھنے میں مصروف ہیں تو کلکتہ کے باسی فٹبال کے جنون میں مبتلا ہیں۔

ایک نو عمر لڑکے راجہ سین کا کہنا ہے کہ’یہ عوام کا کھیل ہے‘۔ راجہ عالمی کپ کے تمام میچ دیکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’اس شہر کی ثقافت میں فٹبال شامل ہے اور آپ لڑکوں کو شہر کی گلیوں اور باغات میں فٹبال کھیلتے دیکھ سکتے ہیں‘۔

برازیل کا ہرا اور سنہرا رنگ کلکتہ والوں کا پسندیدہ ہے۔

کلکتہ کا ’میدان‘ شہر کے فٹبال شائقین کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہاں نہ صرف فٹبال کھیلی جاتی ہے بلکہ اس کے ایک کونے پر ایک مصروف بازار بھی واقع ہے جہاں کلکتہ کے فٹبال شائقین جمع ہوتے ہیں۔

اگرچہ اس بازار میں عالمی کپ میں شریک تمام ممالک کے جھنڈے اور وردیاں موجود ہیں لیکن برازیل کا ہرا اور سنہرا رنگ کلکتہ والوں کا پسندیدہ ہے۔

ایک دکاندار نے ایک نوعمر گاہک سے کہا کہ’ آپ کو کل آنا ہوگا۔ میرا سٹاک ختم ہو گیا ہے اور اب میرے پاس درمیانے ناپ کی برازیل کی قمیض موجود نہیں صرف ’ایکسٹرا لارج‘ سائز ہے‘۔

انڈیا ان مقابلوں میں شریک تو نہیں لیکن یہاں سب برازیل کے حمایتی ہیں۔ چالیس برس تک برازیل کے شائق رہنے والے پینسٹھ سالہ سشیر لعل بینر جی کہتے ہیں کہ ’برازیلین فنکار ہیں۔وہ بہت مہارت سے کھیلتے ہیں‘۔ بینر جی کے مطابق ان کی زندگی کا بہترین لمحہ وہ تھا جب ستّر کی دہائی میں انہوں نے برازیلین کھلاڑی پیلے کو کلکتہ میں ایک نمائشی میچ میں کھیلتے دیکھا۔

برازیل کی ہی طرح کلکتہ میں فٹبال کا کھیل غرباء میں زیادہ مقبول ہے۔ سولہ سالہ ابھیجیت ایک کچی آبادی میں رہتے ہیں اور چھ برس کی عمر سے فٹبال کھیل رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’مجھے اس کھیل سے عشق ہے۔ اور میں ایک پیشہ ور فٹبالر بننا چاہتا ہوں‘۔

انڈیا عالمی کپ کھیلا تو ہم برازیل کی حمایت ترک کر دیں گے

انڈیا میں حکومت تو فٹبال کے کھیل کی اتنی سرپرستی نہیں کرتی تاہم اب برازیلی فٹبال کوچ روماریو نے ساؤ پالو سے کلکتہ آ کر ایک فٹبال کلینک منعقد کیا ہے۔

اس تربیتی کلینک میں کلکتہ کے لڑکوں کے ایک گروپ نے ان کی نگرانی میں تربیت حاصل کی ہے۔ رومرایو کہتے ہیں’ان میں ٹیلنٹ موجود ہے صرف حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ برازیل میں ہم فٹبال کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ ہمارا تمام وقت صرف یہ کھیل کھیلتے گزرتا ہے اور پورا ملک ہی اس کھیل کا دیوانہ ہے لیکن یہاں لوگ کرکٹ کے دیوانے ہیں‘۔

شاید یہی وجہ ہے کہ انڈیا فٹبال کی عالمی درجہ بندی میں ایک سو اٹھارویں نمبر پر ہے اور آج تک انڈیا نے کسی فٹبال ورلڈ کپ میں حصہ نہیں لیا۔

ابھیجیت کہتے ہیں کہ ’شاید ایک دن ہوگا کہ انڈیا عالمی کپ کھیلےگا اور تب ہم برازیل کی حمایت کرنا چھوڑ دیں گے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد