 | | | رونالڈو کو گرڈ ملر کا عالمی ریکارڈ توڑنے کے لیئے تین گول درکار ہیں |
فٹبال کے عالمی کپ کے آغاز میں قریباً ایک ہفتہ باقی ہے اور نو جون 2006 کو ان عالمی مقابلوں کے آغاز کے ساتھ ہی دنیا ایک مرتبہ پھر فٹ بال کے عشق میں مبتلا ہو جائے گی۔ فٹبال کے عالمی مقابلوں میں شرکت جہاں ہر کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے وہیں ان مقابلوں کے دوران اپنے ملک کے لیئے گول کرنا ایک اعزاز تصور کیا جاتا ہے۔ اب تک ہونے والے فٹبال عالمی مقابلوں میں بہت سے نامور کھلاڑیوں نےگیند کو جال میں پہنچا کر اپنے اپنے ملک کی فتح میں اہم کردار ادا کیا ہے تاہم یہاں اب تک ہونے فٹبال ورلڈ کپ مقابلوں کے دس بہترین کلاسیک گول سکوررز کا تعارف دیا جا رہا ہے۔ 1۔یوسبیو (1966۔9گول)
’بلیک پینتھر‘ کے نام سے پہچانے جانے والے پرتگال کے اس فٹ بالر نے 1966 کے ورلڈ کپ کے دوران نوگول کر کے نہ صرف’گولڈن بُوٹ‘ حاصل کیا تھا بلکہ دنیا کو حیران کر دیا تھا۔ 1966 کا ورلڈ کپ انگلینڈ نے جیتا تھا لیکن عوام میں یوسبیو کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ورلڈ کپ کے فوراً بعد ان کا مومی مجسمہ مشہور مادام تساؤ میوزیم میں رکھا گیا تھا۔2۔ پیلے (1958،1962،1966،1970۔12 گول)
برازیل کے سپر سٹار اور دنیا کے مشہور فٹ بالر پیلے نے فٹبال کے چار عالمی مقابلوں میں حصہ لیا اور ان میں سے تین میں برازیل کو اپنے جارحانہ اور عمدہ کھیل کی بدولت فتح سے ہمکنار کروایا۔ پیلے ورلڈ کپ میں بارہ گول کر کے ان مقابلوں میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔3۔ماریو کیمپس(1974،1978،1982۔ 6 گول)
ارجنٹیا سے تعلق رکھنے والے اس فٹبالر نے 1978 کے مقابلوں مںی چھ گول کیئے جن میں ہالینڈ کے خلاف فائنل میں کیئے جانے والے دوگول بھی شامل ہیں۔ ماریو کی اس عمدہ کارکردگی کی بدولت ہی ارجنٹیا اپنی سر زمین پر عالمی کپ جیتنے میں کامیاب رہا تھا۔4۔گرڈ ملر( 1970، 1974 ۔ 14 گول)
ملر کو 1974 کے عالمی فٹبال مقابلوں کے فائنل کا فیصلہ کن گول کرنے کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے لیکن انہوں نے اپنے ٹیلنٹ کا صحیح مظاہرہ 1970 میں میکسیکو میں ہونے والے عالمی کپ میں کیا جب انہوں نے مغربی جرمنی کے لیئے دس گول کیئے۔ وہ اب تک عالمی کپ مقابلوں میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں۔5۔ پاؤلو راسی(1978،1982۔ 9 گول)
اٹلی کے پاؤلو راسی پر 1978 کے عالمی کپ کے بعد میچ فکسنگ کے الزام کے تحت پابندی لگا دی گئی تھی تاہم انہیں اس پابندی میں نرمی کرتے ہوئے 1982 کا عالمی فٹبال کپ کھیلنے کی اجازت دی گئی اور راسی نے سا ٹورنامنٹ میں چھ گول سکور کر کے نہ صرف اٹلی کی فتح میں اہم ترین کردار ادا کیا بلکہ ’گولڈن ُبوٹ‘ کا اعزاز بھی جیتا۔6۔ گیری لنیکر(1986 ،1990 ۔ 10 گول)
انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے لنیکر نے 1986 کے عالمی کپ میں چھ گول سکور کر کے’گولڈن بوٹ‘ حاصل کیا۔ ان گولوں میں پولینڈ کے خلاف ایک ہیٹ ٹرک بھی شامل تھی۔ چار برس بعد 1990 میں گیری لنیکر نے چار گول کر کے انگلینڈ کی ٹیم کے سیمی فائنل میں پہنچنے کی راہ ہموار کی۔7۔ ڈیاگو میراڈونا(1982، 1986، 1990، 1994 ۔ 8 گول) میراڈونا کا شمار دنیائے فٹبال کے چند عمدہ ترین سٹرائکرز میں کیا جاتا ہے۔ 1986 میں انگلینڈ کے خلاف میچ میں جہاں ان کا ایک متنازعہ گول’ہینڈ آف گاڈ‘ کے نام سے مشہور ہوا تو وہیں اسی میچ میں میراڈونا نے ایک ایسا گول بھی کیا جسے بیسویں صدی کے چند بہترین گولوں میں گنا جاتا ہے۔ میراڈونا 1986 کے عالمی کپ میں ارجنٹینا کے لیئے فتح گر ثابت ہوئے تھے۔8۔ جرگن کلنزمین (1990، 1994، 1998۔ 11 گول)
سنہ 1990 میں جرمنی کی فتح میں اہم کردار نبھانے والے کلنزمین نے اپنے کیرئر کے دوران تین عالمی کپ مقابلوں میں حصہ لیا اور کل گیارہ گول کیئے۔ کلنزمین کو اپنی شاندار فنشنگ کی بدولت جرمن فٹبال کے درخشاں ستاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔9۔ رستو سٹائچکوو(1994، 1998۔ 6 گول)
بلغاریہ کے مشہور ترین کھلاڑیوں میں سے ایک سٹائچکوو نے 1994 کے عالمی کپ مقابلوں میں اپنی شاندار کارکردگی کی بدولت اپنی ٹیم کو چوتھی پوزیشن دلوائی۔ انہوں نے دو عالمی کپ مقابلوں میں حصہ لیا اور چھ گول کیئے۔10۔ رونالڈو(1994، 1998، 2002۔ 12 گول)
برازیل کے رونالڈو کو عصرِ حاضر کا خطرناک ترین سٹرائیکر تصور کیا جاتا ہے۔ رونالڈو کو عالمی مقابلوں میں جرمنی کےگرڈ ملر کا سب سے زیادہ گول کرنے کا ریکارڈ توڑنے کے لیئے مزید تین گولوں کی ضرورت ہے اور یہ سب جانتے ہیں کہ رونالڈو کے لئیے یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ وہ صرف سنہ 2002 کے عالمی کپ میں ہی 8 گول کر چکے ہیں۔
|