’عالمی کپ شاندار ایونٹ ہوگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایشیائی کرکٹ بورڈز کے حکام نے دعوٰی کیا ہے کہ سنہ 2011 کا عالمی کپ دنیائے کرکٹ کی تاریخ کا سب سے شاندار ایونٹ ہوگا۔ آئی سی سی نے پاکستان، انڈیا، سری لنکا اور بنگلہ دیش کو سنہ 2011 میں کرکٹ کا عالمی کپ منعقد کروانے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہریار خان کا کہنا تھا کہ’ یہ ہمارے لیئے ایک اعزاز کی بات ہے اور ہم آئی سی سی کے شکر گزار ہیں کہ اس نے ہمیں نمائندگی کے عمل کو مکمل کرنے کے لیئے مزید وقت بھی دیا‘۔ انڈین کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ اندرجیت سنگھ بندرا کا کہنا تھا کہ’ہمیں یقین ہے کہ 2011 کا عالمی کپ کرکٹ اور تشہیری نقطۂ نگاہ سے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا اور ان مقابلوں کا انتظام فٹبال کے عالمی کپ کی مانند بہت بڑے پیمانے پر کیا جائےگا‘۔ انہوں نے کہا کہ’ہمیں عالمی کپ یہ یقین دہانی کرانے پر ملا کہ ہمارے خطے میں کرکٹ ایک مذہب ہے اور باقی سب اس کے بعد آتا ہے اور یہاں بالی وڈ کی فلموں کی نمائش، سرکاری تقاریب یہاں تک کہ شادیاں بھی میچ کے شیڈول کو رکھ کر طے کی جاتی ہیں‘۔
آئی ایس بندرا نے کہا کہ’2011 میں ان چار ممالک میں ٹریفک رک جائےگی اور برصغیر کے ایک ارب سے زیادہ ٹی وی ناظرین اور بقیہ دنیا کے بھی ایک ارب لوگ یہ مقابلے دیکھیں گے‘۔ بنگلہ دیش بورڈ کے ترجمان محمد علی اصغر نے بھی ایشیا کو کرکٹ کے عالمی کپ کی میزبانی ملنے کو’شاندار خبر‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ ہمارے ملک میں ہونے والے میچوں سے بنگلہ دیش میں کرکٹ کے فروغ میں مدد ملے گی‘۔ ورلڈ کپ منعقد کرانے والے ممالک اب یہ فیصلہ کریں گے کہ عالمی کپ کا فائنل کس ملک میں کھیلا جائے گا۔ 1996 میں جب پاکستان، انڈیا اور سری لنکا میں عالمی کپ منعقد ہوا تھا تو فائنل لاہور میں کھیلا گیا تھا۔ | اسی بارے میں 2011 کا عالمی کپ ایشیا میں30 April, 2006 | کھیل ’پاکستان کو اس کا حصہ جلد ملے گا‘26 April, 2006 | کھیل 96ء ورلڈ کپ، ابھی تک منافع نہیں ملا13 April, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||