BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 April, 2006, 13:48 GMT 18:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
96ء ورلڈ کپ، ابھی تک منافع نہیں ملا

ورلڈ کپ
’پاکستان کو اس کے حصے کی رقم جلد مل جائے گی‘
پاکستان نے سنہ 96 کے ورلڈ کپ کے منافع میں سے اب تک حصہ نہ ملنے کے باوجود انڈیا کے ساتھ ایک بار پھر مشترکہ طور پر2011 کرکٹ ورلڈ کپ کی میزبانی کی خواہش ظاہر کی ہے۔

اس مرحلے پر یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ پاکستان کو دس سال قبل ہونے والے 1996ء کے ورلڈ کپ کے منافع میں سے بھی ابھی تک حصہ نہیں ملا ہے۔ تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ دعوی کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے روکی جانے والی رقم بہت جلد اسے ملنے والی ہے۔ پی سی بی نے اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیئے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اسد صدیقی کی خدمات بھی حاصل کر لی ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر عباس زیدی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے ورلڈ کپ96 کی رکی ہوئی رقم کی بابت بات کرتے ہوئے بتایا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر شردپوار نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان کو واضح الفاظ میں یقین دہانی کرا دی ہے کہ پاکستان کو اس کے حصے کی رقم جلد مل جائے گی۔ اس بات کو ایک ماہ ہو چکا ہے اور شہریارخان اپنے ہم منصب کو دوبارہ یاد دہانی کرائیں گے تاکہ یہ معاملہ جلد ازجلد نمٹایا جا سکے۔

عباس زیدی کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ماضی کے افسران بالا کی عدم دلچسپی کی وجہ سے یہ رقم رکی رہی جبکہ ایک سبب مالی معاملات کا عدالت میں الجھے رہنا بھی تھا۔

یاد رہے کہ ورلڈ کپ 96 ءکے موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور عارف علی خان عباسی کے پاس تھی لیکن ورلڈ کپ کے دو ماہ بعد وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ نہیں رہے تھے لیکن انہوں نے اپنے بعد آنے والوں کو خط لکھ کر اپنی خدمات پیش کی تھیں کہ وہ پاکستان کا رکا ہوا پیسہ واپس لانے میں مدد کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن عارف عباسی کے مطابق کسی نے اس معاملے میں سنجیدگی اختیار نہیں کی اور ایک بڑی رقم ابھی تک بھارت نے روکی ہوئی ہے۔

عارف علی خان عباسی کا کہنا ہے کہ ایک رقم ایک لاکھ77 ہزار ڈالرز کی ہے، دوسری رقم پانچ لاکھ ڈالرز کی ہے اور تیسری رقم جو ایک اعشاریہ آٹھ ملین پاؤنڈ سٹرلنگ ہے اس کا نصف حصہ پاکستان کا ہے۔

ان کے مطابق یہ تین رقمیں تو پاکستان کو فوراً مل جانی چاہیئے تھیں جبکہ ٹی وی نشریاتی حقوق کی رقم کامعاملہ مارک میسکرنہاس نے ثالثی میں ڈال دیا تھا اور این پی کے سالوے نے انہیں بتایا تھا کہ انہوں نے ثالث کے طور پر اس مسئلے کو بھی حل کردیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد