2011 کا عالمی کپ ایشیا میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا، بنگلہ دیش، پاکستان اور سری لنکا دو ہزار گیارہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کی میزبانی مشترکہ طور پر کریں گے۔ ان ٹیموں نے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو مشترکہ طور پر ورلڈ کپ منعقد کرانے کی بولی کوشکست دی ہے۔ ادھر انگلینڈ سن دو ہزار انیس کے کرکٹ ورلڈ کپ کی میزبانی کرے گا جبکہ دو ہزار نو میں ہونے والی عالمی ٹونٹی ٹونٹی چیمپئن شپ کی میزبانی حاصل کرنے کی کوشش میں بھی ہے۔ انگینڈ کے حکام کوگزشتہ ماہ بتایا گیا کہ وہ دو ہزار انیس میں ہونے والے ورلڈ کپ کی میزبانی اسی صورت میں کر سکیں گے اگر وہ دو ہزار پندرہ کے ورلڈ کپ کے انعقاد کی دوڑ سے باہر نکل آئیں۔ دو ہزار گیارہ میں ورلڈ کپ ایشیا میں منعقد کرانے کی ایشیائی ملکوں کی مشترکہ بولی کے حق میں دس میں سے سات ووٹ پڑے۔ تاہم روایتی طور پر ورلڈ کپ منعقد کرانے کی باری آسٹریلیا کی تھی۔ پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے حکام نے یہ تسلیم کیا ہے کہ اگلی پانچ برس میں انہیں (ورلڈ کپ منعقد کرانے کے لیئے) کافی کام کرنا پڑے گا۔ انڈین کرکٹ بورڈ کے للت مودی کا کہنا تھا: ’ہم نے بڑا کارنامہ کیا ہے۔ چاروں ملکوں نے ورلڈ کپ کے انعقاد کی بولی میں متاثر کن انداز میں اپنا مقدمہ پیش کیا اور ہمیں تیرہ میں سے دس ووٹ ملے۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ورلڈ کپ کے انعقاد کے لیئے مکمل ڈھانچہ کھڑا کرنے کے لیئے کافی کام کی ضرورت ہے۔ ’ہم ذہنی طور پر اس کے لئیے تیار ہیں۔‘ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے انیس سو بانوے میں ہونے والے ورلڈ کپ کے میچ مشترکہ طور پر منعقد کرائے تھے۔ انگینڈ نے پہلے تین ورلڈ کپ ٹورنامنٹس کی میزبانی کی تھی جو انیس سو پچھہتر، اناسی اور تراسی میں ہوئے تھے۔ اس کے بعد انگلینڈ نے انیس سو ننانوے کے ورلڈ کپ کا انعقاد کرایا تھا جو آسٹریلیا نے جیتا تھا۔ اس مرتبہ ورلڈ کپ دو ہزار سات میں ویسٹ انڈیز میں ہو رہا ہے جو پہلی بار اس ٹورنامنٹ کی میزبانی کرے گا۔ | اسی بارے میں ورلڈ کپ: ’ہم بھی بولی دیں گے‘28 February, 2006 | کھیل ورلڈ کپ2011 پاک بھارت امیدوار 13 January, 2006 | کھیل ’سیریز ورلڈ کپ کی تیاری ہے‘28 May, 2005 | کھیل ورلڈ کپ کمیٹی کے سربراہ مستعفٰی06 September, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||