امپائر کے خلاف اپیل کے حق پر غور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی کرکٹ کونسل اس معاملے پر بحث کرنے والی ہے کہ کیا ٹیموں کو میدان میں موجود امپائروں کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق ملنا چاہیئے یا نہیں۔ اس معاملے پر پیش کی جانے والی تجاویز کے مطابق ہر ٹیم کو ایک اننگز کے دوران مقررہ تعداد میں میدان میں موجود امپائر کے فیصلوں کے خلاف تھرڈ امپائر کے پاس اپیل کرنے کا حق دیا جا سکتا ہے۔ اگر کرکٹ کمیٹی اس تجویز کو منظور کر لیتی ہے تو اسے اکتوبر میں انڈیا میں ہونے والی چیمپیئنز ٹرافی میں تجرباتی طور پر لاگو کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیئے اسے آئی سی سی کے مکمل بورڈ کی منظوری درکار ہوگی۔ امپائر کے فیصلے کے خلاف اپیل کا قانون ’امریکن فٹبال‘ کے کھیل میں متعدد برس سے رائج ہے اور آئی سی سی کا کہنا ہے کہ اس قانون کے آنے سے میدان میں موجود امپائروں کی اہمیت میں کمی واقع نہیں ہوگی۔ آئی سی سی کے جنرل مینجر اور جنوبی افریقہ کے سابق وکٹ کیپر ڈیو رچرڈ سن کا کہنا ہے کہ’بین الاقوامی معیار کے امپائر عام طور پر چورانوے سے چھیانوے فیصد تک صحیح فیصلے کرتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ان فیصلوں کے خلاف زیادہ اپیلیں نہیں کی جائیں گی‘۔ انہوں نے کہا کہ’ اگر ان اپیلوں سے درست فیصلوں میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ کھیل کے لیئے بہتر ہے‘۔ اس فیصلے پر بحث کرنے والی آئی سی سی کی کمیٹی کی سربراہی انڈیا کے سنیل گواسکر کر رہے ہیں جبکہ اس میں ایلن بارڈر، ارجنا رانا ٹنگا، اینگس فریزر اور ماجد خان جیسے بڑے کھلاڑی شامل ہیں۔ یہ کمیٹی اپنے اجلاس میں اس بات پر بھی غور کرے گی کہ کیا امپائروں کو ایسے ائر فون پہنننے چاہیئیں جن کا رابطہ وکٹ میں لگے مائیکروفون سے ہو۔ اس طریقے کا تجربہ انگلینڈ میں منعقدہ سنہ 2004 کی چیمپیئنز ٹرافی اور گزشہ برس پاک انڈیا سیریز میں بھی کیا جا چکا ہے۔ | اسی بارے میں ایمپائر کی طرف نہ دیکھنے کی سزا15 February, 2006 | کھیل ’فیلڈ آبشٹرکشن‘ اپیل پر نئی بحث11 February, 2006 | کھیل ’انضمام کے خلاف اپیل ٹھیک تھی‘09 February, 2006 | کھیل آؤٹ ہونے کے طریقے07 February, 2006 | کھیل بریٹ لی کو سخت تنبیہ03 January, 2006 | کھیل زیادہ اپیلیں کرنے پر نہرا کو تنبیہ01 August, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||