BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 February, 2006, 13:56 GMT 18:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فیلڈ آبشٹرکشن‘ اپیل پر نئی بحث

انضمام الحق
’ کھلاڑیوں کو کہا ہے کہ اس واقعے کو بھول کر اپنی کارکردگی پر توجہ دیں‘
پشاور میں ہونے والے ایک روزہ میچ میں کپتان انضمام الحق نے اپنے خلاف آبسٹرکٹنگ دا فیلڈ آؤٹ کی بھارتی اپیل کے معاملے پر یہ کہہ کر خاموشی اختیار کر لی ہے کہ میچ ریفری نے انہیں اس ایشو پر مزید بات کرنے سے انکار کر دیا۔

انضمام الحق کی خاموشی کے باوجود بھارتی کپتان کے جوابی بیان سے کرکٹ کے حلقوں میں اس بھارتی اپیل پر بحث چھڑ گئی۔

انضمام الحق کے خلاف اپیل
 مہندر امر ناتھ کا کہنا ہے کہ بھارتی ٹیم کی انضمام کے خلاف آبسٹرکٹنگ دا فیلڈ کی اپیل سپورٹس مین شپ کے خلاف تھی۔
مہندر امرناتھ
بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق بیٹسمین مہندر امر ناتھ نے ایک ٹی وی چینل پر کہا کہ بھارتی ٹیم کی انضمام کے خلاف یہ اپیل سپورٹس مین شپ کے خلاف تھی۔

ایک سیورٹس چینل پر میچ کی کمنٹری کے لیے آئے ہوئے ویسٹ انڈیز ٹیم کے سابق فاسٹ بالر مائیکل ہولڈنگ نے بھی دریافت کرنے پر کہ ان کی نظر میں بھارتی ٹیم کی انضمام کے خلاف اپیل کیسا عمل تھا

مائیکل ہولڈنگ
 دنیا کرکٹ کو ایک جینٹل مین کھیل کہتی اور سمجھتی ہے لیکن اس طرح کی اپیلوں سے کرکٹ کا وقار مجروح ہوتا ہے۔
مائیکل ہولڈنگ کا جواب تھا کہ ان کی نظر میں یہ کھیل کی سپرٹ کے منافی بات تھی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کرکٹ کو ایک جینٹل مین کھیل کہتی اور سمجھتی ہے اور یہاں تک کہ اس کی مثال دی جاتی ہے لیکن اس طرح کی اپیلوں سے کرکٹ کا وقار مجروح ہوتا ہے۔

سابق بھارتی کرکٹر ارون لال
 اب کی اور بیس سال پہلے کی کرکٹ کا موازنہ کیا جائے تو لگتا ہے کہ کھیل کی سپرٹ کے تو معنی ہی تبدیل ہو گئے ہیں ان کے مطابق انڈین ٹیم کی انضمام کے خلاف اپیل کھیل کی سپرٹ کے خلاف نہیں
بھارت کے سابق ٹیسٹ کرکٹر اور اب کمینٹیٹر ارون لال کا نقطہ نظر کچھ مختلف تھا ان کا کہنا تھا کہ اب کی اور بیس سال پہلے کی کرکٹ کا موازنہ کیا جائے تو لگتا ہے کہ کھیل کی سپرٹ کے تو معنی ہی تبدیل ہو گئے ہیں اب کھلاڑی چاہے وہ پاکستان کے ہوں یا بھارت کے زمین پر گیند لگنے کے بعد کیچ پکڑ کر بھی اپیل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا یہ کھیل کی روح کے خلاف نہیں۔

ارون لال نے کہا کہ آج کل کی کرکٹ کو دیکھ کر تو انڈین ٹیم کی یہ اپیل کھیل کی سپرٹ کے خلاف نہیں لگتی۔

انگلینڈ کے خلاف انیس سو ستاسی میں آبسٹرکٹنگ دا فیلڈ کے قانون کے تحت آؤٹ ہونے والے پاکستانی بیٹسمین رمیض راجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی ٹیم کی پشاور کے ایک روزہ میچ صرف اس لمحے کا فیصلہ نہیں تھا دراصل اس سیریز کے آغاز ہی سے دونوں ٹیموں کے درمیان چپقلش چل رہی تھی اور میدان میں بھی ایک تناؤ کی کیفیت رہی۔

رمیز راجہ نے کہا کہ شاہد آفریدی نے پہلے ٹیسٹ میچ میں کچھ جارحانہ رویہ رکھا پھر شعیب اختر نے راؤنڈ دی وکٹ جا کر بیمر پھینکا اور گریک چیپل نے شعیب اختر کے بالنگ ایکشن پر تنقید کی تو دراصل دونوں کیمپوں کی جانب سے الزامات کا سلسلہ جاری تھا جس کا نتیجہ آخر کار اس اپیل کی صورت میں سامنے آیا۔

رمیز راجہ
یورپی ٹیمیں تو ایسی اپیل پر کبھی نہیں چوکتیں لیکن یہ ہمارے خطے کی کرکٹ روایات کے تحت درست بات نہیں تھی
آبسٹرکٹنگ دا فیلڈ کے قانون کے تحت آؤٹ ہونے والے رمیز راجہ
رمیض راجہ کے مطابق اگر چہ یہ قانون کے مطابق فیصلہ تھا اور یورپی ٹیمیں تو ایسی اپیل پر کبھی نہیں چوکتیں لیکن یہ ہمارے خطے کی کرکٹ روایات کے تحت درست بات نہیں تھی۔

راولپنڈی میچ کو دیکھنے کے لیے سٹیڈیم میں سینکڑوں بھارتی تماشائی بھی موجود تھی اپنی ٹیم کے اس عمل پر ان کا ملا جلا رد عمل تھا۔

دہلی سے آئے ارون گپتا نے تو سخت الفاظ میں اپنی ٹیم کی انضمام کے خلاف اپیل کی مخالفت کی انہوں نے کہا کہ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ انضمام کے آؤٹ پر کرکٹ کا قانون کیا کہتا ہے میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اس حرکت سے اس دوستانہ کرکٹ سیریز کو دھچکا پہنچا ہے اور میں بھارتی ٹیم کے اس عمل کی بھر پور مذمت کرتا ہوں۔

چندی گڑھ سے آئے نتن جے کے نزدیک میچ کو جیتنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنا چاہیے اور بھارتی ٹیم نے صحیح اپیل کی۔

پاکستانی شائقین میں سے زیادہ نے تو بھارتی ٹیم کے اس اپیل کو کھیل کی روح کے خلاف کہا البتہ خوشاب سے راولپنڈی میچ کو دیکھنے کے لیے آئے ایک کرکٹ شائق ملک افتخار نے کہا کہ بھارتی ٹیم نے ٹھیک کیا قصور ہمارے کپتان کا ہے کہ جس کو اس قانون کا علم نہیں۔

بھارتی ٹیم کا یہ عمل درست تھا یا نہیں یہ بحث تو شاید کچھ دن کے بعد ختم ہو جائے لیکن اتنا ضرور ہے کہ ہفتے کے روز راولپنڈی میں ہونے والے دوسرے ایک روزہ میچ میں بھارتی ٹیم نے شعیب ملک کے خلاف اس وقت اپیل نہیں کی جس وقت وہ رن لینے کے لیے دوڑتے ہوئے فیلڈر سے ٹکرائے اور ان کی ٹانگ بھی بال کو لگی لیکن بھارتی ٹیم کے کپتان راہول ڈراوڈ نے اپنے کھلاڑیوں کو اپیل کرنے سے منع کیا۔

اسی بارے میں
آؤٹ ہونے کے طریقے
07 February, 2006 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد