مارچ 1992 کی خوشگوار یادیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کے ذہن میں21 مارچ ایک یادگار دن کے طور پر نقش ہو چکا ہے۔ آج سے14 سال قبل نیوزی لینڈ کے خلاف آ ک لینڈ میں کھیلے گئے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں انہوں نے اپنی شاندار بیٹنگ سے پاکستان کو ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچا دیا تھا۔ انضمام الحق ماضی میں جھانکتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب بھی وہ نیوزی لینڈ کے خلاف اس میچ کی وڈیو دیکھتے ہیں یا کبھی اس میچ کو یاد کرتے ہیں انہیں خود پر فخر محسوس ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کی اس جیت کا حصہ رہے ہیں۔ ورلڈ کپ کے اس سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ پچاس اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 262 رنز بنائے تھے۔ انضمام الحق جب کریز پر آئے تھے تو140 کے سکور پر پاکستان کی چار وکٹیں گر چکی تھیں۔ اس موقع پر نوجوان انضمام الحق نے تجربہ کار جاوید میانداد کے ساتھ مل کر پاکستان کی جیت ممکن بنا دی تھی۔ انضمام الحق نے صرف37 گیندوں پر سات چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے60 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی جس پر وہ مین آف دی میچ بھی قرار پائے تھے۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ انہیں فخر ہے کہ وہ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کی دو اہم فتوحات میں شامل رہے ہیں۔ انضمام الحق نے سنہ 1992 کے ورلڈ کپ فائنل میں بھی 35 گیندوں پر42 رنز کی قیمتی اننگز کھیلی تھی۔ اس فائنل میں پاکستان نے انگلینڈ کو22 رنز سے شکست دی تھی۔ | اسی بارے میں وکٹ اچھی نہیں تھی: انضمام الحق19 March, 2006 | کھیل مرلی دھرن سے نہیں ڈرتے: ا نضمام 10 March, 2006 | کھیل فیلڈنگ کوچ کی ضرورت نہیں19 February, 2006 | کھیل ’اب تو بس اعتماد بحال کرنا ہے‘18 February, 2006 | کھیل ہسپتال کا قیام، انضمام کا خواب 12 February, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||