احتجاجاً: نیٹ پریکٹس ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی کرکٹ نےسری لنکا میں ایک ہی گروانڈ پر دو ٹیموں کو پریکٹس کی اجازت دیے جانےپر احتجاجاً نیٹ پریکٹس ختم کر دی ہے۔ پاکستان کی ٹیم جب گراونڈ میں پہنچی تو اسے بتایا گیا کہ اسی گراونڈ پر ایک اور مقامی ٹیم کو بھی پریکٹس کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ پاکستان کی ٹیم کو بتایا گیا کہ گروانڈ کا درمیانی حصہ مقامی ٹیم کے زیر استعمال رہے گا جبکہ اسے سائیڈ پر لگے نیٹ پر پریکٹس کرنی چاہیے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر نےاس ’شرمناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر انٹرنیشنل ٹیم کو بھی گراونڈ کا مرکزی استعمال نہ کرنے دیا جائے تو یہ حیرانی کی بات ہے۔
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تین ایک روزہ میچوں کی ون ڈے سیریز جمعہ سے شروع ہو رہی ہے۔ پاکستان کی ٹیم میں شیعب اختر اور محمد سمیع کی غیر موجودگی کی وجہ سے سارا بولنگ اٹیک نیا ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے منیجر ظہیر عباس کے مطابق نوجوان بولر بولنگ کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور 2007 کے ورلڈ کپ تک وہ منجھے ہوئے بولر بن جائیں گے۔ ظہیر عباس نے کہا کہ پاکستان کو فیلڈنگ کے شعبے کو بہت بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔’اگر پاکستان اپنی فیلڈنگ کو بہتر بنا لے تو وہ دنیا کی ایک بہترین ٹیم ثابت ہو سکتی ہے۔‘ | اسی بارے میں مرلی دھرن سے نہیں ڈرتے: ا نضمام 10 March, 2006 | کھیل ٹیم میں دو نئے چہرے، دونوں سپنر10 March, 2006 | کھیل مرلی دھرن کے1000 وکٹ02 March, 2006 | کھیل پاکستانی ٹیم کا دورۂ سری لنکا22 February, 2006 | کھیل نیوزی لینڈ نے سیریز جیت لی03 January, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||