کراچی: بھارت کی لگاتار چوتھی فتح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں کھیلے جانے والے آخری ایک روزہ میچ میں بھارت نے پاکستان کو آٹھ وکٹ سے شکست دے کر سیریز ایک کے مقابلے میں چار میچوں سے جیت لی ہے۔ پاکستان کے286 رن کے جواب میں بھارت نے مقررہ ہدف سنتالیسویں اوور میں دو وکٹ کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ بھارتی اننگز کی خاص بات یوراج سنگھ کی شاندار سنچری اور مہندر دھونی کی تیز رفتار بلے بازی تھی۔ یوراج سنگھ 96 گیندوں پر 107 رن جبکہ دھونی صرف 56 گیندوں پر 77 رن بنا کرناٹ آؤٹ رہے۔ ان دونوں بلے بازوں کےدرمیان 99 گیندوں پر 146 رن کی شراکت ہوئی۔ دھونی نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے تماشائیوں کے دل موہ لیئے ان کی اننگز میں6 چوکے اور 4 چھکے شامل تھے۔ یوراج سنگھ نے اس سیریز میں 344 رنز بنائے جس میں ایک سنچری اور دو نصف سنچریاں شامل ہیں۔ بھارت کے آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی راہول ڈراوڈ تھے جو اپنے کیرئر کی اڑسٹھویں نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد محمد سمیع کی گیند پر 50 رن بنا رک آوٹ ہو گئے۔ ان سے پہلےگوتم گھمبیر 38 رن بنا کر راؤ افتخار کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔
بھارت کی جانب سے سچن تندولکر کی غیر موجودگی میں راہول ڈراوڈ نے گوتم گھمبیر کے ہمراہ اننگز کا آغاز کیا تھا اور اننگز کی ابتداء میں ہی راہول ڈراوڈ نے ایک روزہ کرکٹ میں اپنے نو ہزار رن مکمل کر لیے۔ اس سے قبل پاکستان نے مقررہ 50 اوور میں آٹھ وکٹ کے نقصان پر 286 رن بنائے تھے۔پاکستان کے نائب کپتان یونس خان 74 اور راؤ افتخار 6 رن بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ پاکستان کے آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی محمد سمیع تھے جو 2 رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔ بھارت کی جانب سے سریسانتھ نے چار جبکہ رمیش پوار، ظہیر خان، آر پی سنگھ اور اجیت اگرکر نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔ بھارت نے ٹاس جیت کر پاکستان کو کھیلنے کی دعوت دی تھی اور پاکستان کی جانب سے عمران فرحت اور کامران اکمل نے جارحانہ انداز میں اننگز کا آغاز کیا اور متعدد دلکش سٹروک کھیلے۔ جب ٹیم کا سکور 61 پر پہنچا تو عمران فرحت سریسانتھ کے ایک باؤنسر پر خود انہی کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔ انہوں نے 24 رن بنائے۔
کامران اکمل بھی بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے اور 25 رن بنا کر سریسانتھ کا دوسرا شکار بنے۔ شعیب ملک کو بھی سریسانتھ نے ہی آؤٹ کیا۔ انہوں نے 12 رن بنائے۔کپتان انضمام الحق تھے جو 21 رن بنا کر رمیش پوار کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ محمد یوسف تھے 67 رن بنا کر اگرکار کی گیند پر کیچ ہوئے۔ محمد یہ ان کے کیریئر کی سنتالیسویں نصف سنچری تھی۔ عبدالرزاق 14 گیندوں پر 24 رن بنا کر آر پی سنگھ کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ یاسر عرفات 10 رن بنا کر ظہیر خان کا شکار بنے۔ اس میچ میں پاکستان نے سلمان بٹ اور رانا نوید کی جگہ عمران فرحت اور راؤ افتخار کو ٹیم میں شامل کیا ہے جبکہ بھارت نے بھی اپنی ٹیم میں دو تبدیلیاں کی ہیں اور اپنے بہتریں بلے باز سچن تندولکر اور تیز رفتار بالر عرفان پٹھان کو ٹیم میں شامل نہیں کیا اور انہیں آرام کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
بھارت پانچ ایک روزہ میچوں کی اس سیریز میں پہلے ہی ایک کے مقابلے میں تین میچوں میں کامیابی حاصل کر چکا ہے۔ بھارت کے کپتان راہول ڈاروڈ نے ٹاس جیت کر کہا ہے کہ اس میچ میں زیادہ رن بننے کی امید ہے۔ پاکستانی ٹیم۔ انضمام الحق ( کپتان) عمران فرحت۔ کامران اکمل۔ شعیب ملک۔ محمد یوسف۔ یونس خان۔ عبدالرزاق۔ محمد سمیع۔ محمد آصف۔ یاسرعرفات اور راؤ افتخار۔ سپر سب فیصل اقبال ہیں۔ بھارتی ٹیم۔ راہول ڈراوڈ ( کپتان) گوتم گمبھیر۔ محمد کیف۔ یوراج سنگھ۔ مہندرا دھونی۔ سریش رائنا۔سری سانتھ۔ اجیت اگرکار۔آر پی سنگھ۔ رمیش پوار اور ظہیرخان۔ سپر سب مرلی کارتک ہیں۔ اس میچ کےامپائرز علیم ڈار اور اسٹیو بکنر ہیں جبکہ میچ ریفری کرس براڈ ہیں۔ |
اسی بارے میں انڈیا میچ اور سیریز جیت گیا16 February, 2006 | کھیل تندولکر کا دور جاری ہے16 February, 2006 | کھیل بھارت: نشریاتی حقوق فروخت17 February, 2006 | کھیل ’شعیب کی شمولیت نا ممکن‘17 February, 2006 | کھیل پاکستانی ٹیم کی انسانی ہمدردی18 February, 2006 | کھیل ’اب تو بس اعتماد بحال کرنا ہے‘18 February, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||