’میرے خلاف اپیل منفی رویہ تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق پشاور میں ’آبسٹرکٹنگ دی فیلڈ‘ یعنی فیلڈنگ میں رکاوٹ ڈالنے کی وجہ سے آؤٹ دیئے جانے پر سخت مایوس ہیں اور وہ اسے اسپورٹس مین اسپرٹ کے منافی قرار دیتے ہیں۔ پشاور کے ایک روزہ میچ میں سریش رائنا نے مڈ آف سے گیند پھینکی جسے کریز سے باہر بیٹ سے روکنے کی پاداش میں پاکستانی کپتان کو امپائر سائمن ٹافل نے ساتھی امپائر اسد رؤف سے مشورے کے بعد ’آبسٹرکٹنگ دی فیلڈ‘ کی بنیاد پر آؤٹ قراردیا تھا اور جس پر انضمام الحق حیران پریشان رہ گئے تھے۔ انضمام الحق نے ایک اخبار میں لکھا ہے کہ بھارتی کھلاڑیوں کی اپیل کرکٹ کے قانون کے مطابق تھی لیکن وہ اسپورٹس مین اسپرٹ کے منافی تھی۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ کرکٹ میں آؤٹ ہونے کے کئی طریقے ایسے ہیں جو قانون کے زمرے میں آتے ہیں مثلاً آبسٹرکٹنگ دی فیلڈ، ہینڈل دی بال، ہٹ دی بال ٹوائس اور بولر کا کریز سے باہر نکلے بیٹسمین کو رن آؤٹ کرنا لیکن انہیں اختیار کرنا اسپورٹس مین اسپرٹ کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ انضمام الحق کے خیال میں اگر وہ گیند کو بلے سے نہیں روکتے تو وہ ان کے جسم کو لگتی جس سے بچنے کی خاطر انہوں نے اسے بیٹ سے روکا تھا۔ | اسی بارے میں انضمام الحق آؤٹ ہونے پر حیران06 February, 2006 | کھیل پاکستان کی سات رن سے فتح06 February, 2006 | کھیل ’سچن کے بہترین دن توابھی آئےنہیں‘06 February, 2006 | کھیل آؤٹ ہونے کے طریقے07 February, 2006 | کھیل وریندر سہواگ سے خطرہ ہے : انضمام 04 February, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||