BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 February, 2006, 08:35 GMT 13:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میرے خلاف اپیل منفی رویہ تھا‘

انضمام الحق
’ کھلاڑیوں کو کہا ہے کہ اس واقعے کو بھول کر اپنی کارکردگی پر توجہ دیں‘
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق پشاور میں ’آبسٹرکٹنگ دی فیلڈ‘ یعنی فیلڈنگ میں رکاوٹ ڈالنے کی وجہ سے آؤٹ دیئے جانے پر سخت مایوس ہیں اور وہ اسے اسپورٹس مین اسپرٹ کے منافی قرار دیتے ہیں۔

پشاور کے ایک روزہ میچ میں سریش رائنا نے مڈ آف سے گیند پھینکی جسے کریز سے باہر بیٹ سے روکنے کی پاداش میں پاکستانی کپتان کو امپائر سائمن ٹافل نے ساتھی امپائر اسد رؤف سے مشورے کے بعد ’آبسٹرکٹنگ دی فیلڈ‘ کی بنیاد پر آؤٹ قراردیا تھا اور جس پر انضمام الحق حیران پریشان رہ گئے تھے۔

انضمام الحق نے ایک اخبار میں لکھا ہے کہ بھارتی کھلاڑیوں کی اپیل کرکٹ کے قانون کے مطابق تھی لیکن وہ اسپورٹس مین اسپرٹ کے منافی تھی۔

انضمام الحق کا کہنا ہے کہ کرکٹ میں آؤٹ ہونے کے کئی طریقے ایسے ہیں جو قانون کے زمرے میں آتے ہیں مثلاً آبسٹرکٹنگ دی فیلڈ، ہینڈل دی بال، ہٹ دی بال ٹوائس اور بولر کا کریز سے باہر نکلے بیٹسمین کو رن آؤٹ کرنا لیکن انہیں اختیار کرنا اسپورٹس مین اسپرٹ کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔

انضمام الحق کے خیال میں اگر وہ گیند کو بلے سے نہیں روکتے تو وہ ان کے جسم کو لگتی جس سے بچنے کی خاطر انہوں نے اسے بیٹ سے روکا تھا۔
پاکستانی کپتان کا کہنا ہے کہ بھارتی کھلاڑیوں نے جس انداز سے اپیل کی اس سےدونوں ٹیموں کے تعلقات پر منفی اثر پڑسکتا ہے حالانکہ وہ اپنے کھلاڑیوں کو کہہ چکے ہیں کہ اس واقعے کو بھول کر اپنی کارکردگی پر توجہ مرکوز رکھیں۔

اسی بارے میں
آؤٹ ہونے کے طریقے
07 February, 2006 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد