2007 میں ریٹائر ہو سکتا ہوں: مرلی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا کے نامور سپنر مرلی دھرن نے کہا ہے کہ وہ سن 2007 میں کرکٹ سے ریٹائر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات آسٹریلوی اخبار ہیرالڈ سن میں شائع ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں کہی۔ تینتیس سالہ بالر نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے دیگر معاملات پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سن 2007 تک کرکٹ کھیلیں گے اور اس کے بعد کھلے ذہن کے ساتھ یہ فیصلہ کریں گے کہ انہیں کھیل کے میدان میں اترنا چاہیے یا نہیں۔ مرلی دھرن نے کہا کہ وہ اپنے ہاں ایک بیٹے کی پیدائش کا بڑی شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ ’میں نے پندرہ سولہ سال تک کرکٹ سے بہت لطف اٹھایا لیکن اب مجھے خانگی امور پر توجہ دینی ہو گی۔ مرلی دھرن جو سن 2004 چار میں کورٹنی والش کا ریکارڈ توڑ کر ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں والے بالر بن گئے تھے آج کل سہ فریقی ٹورنامنٹ میں حصہ لینے کے لیے آسٹریلیا میں ہیں۔ سری لنکا کے علاوہ جنوبی افریقہ کی ٹیم بھی ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہی ہے۔ بعد میں آسٹریلوی لیگ سپنر شین وارن نے مرلی دھرن کا قائم کیا ہوا ریکارڈ توڑ کر سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بالر بن گئے۔ تاہم کرکٹ کے مبصرین کی رائے میں شین وارن سے عمر میں تین سال کم ہونے کی وجہ سے مرلی دھرن اپنا کھویا ہوا اعزاز واپس حاصل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ تاہم مرلی دھرن نے اپنے انٹرویو میں آسٹریلوی اخبار کو بتایا انہیں ریکارڈ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ’میں ریکارڈ ہولڈر رہ چکا ہوں۔ میں نے بہت عروج دیکھا ہے۔‘ ’ریکارڈ کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ ہو سکتا ہے کہ پندرہ بیس سال میں کوئی اور بالر آئے جو ہزار وکٹیں حاصل کر ڈالے۔‘ | اسی بارے میں ’مرلی ہزار وکٹیں لے سکتے ہیں‘14 April, 2004 | کھیل ’ریکارڈ بنتے ہی ٹوٹنے کے لئے ہیں‘ 09 May, 2004 | کھیل مرلی کی باؤلنگ پر پھر سوال11 May, 2004 | کھیل شین وارن مرلی پر برس پڑے16 June, 2004 | کھیل وارن نے عالمی ریکارڈ برابر کر دیا13 July, 2004 | کھیل مرلی دھرن سے وضاحت طلب18 November, 2004 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||